کیا نماز فجر کو روشنی میں پڑھنے پر صحابہ کا اجماع تھا؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا نماز فجر کو روشنی میں پڑھنے پر صحابہ کا اجماع تھا؟

جواب:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز فجر اندھیرے میں پڑھتے تھے، روشنی میں پڑھنا کسی صحابی سے ثابت نہیں، چہ جائیکہ اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہو۔
❀ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا بیان ہے:
ما أجمع أصحاب محمد على شيء ما أجمع على تنوير بالفجر
”اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مسئلہ پر اتنا اتفاق نہیں کیا، جتنا فجر کو روشن کرنے پر کیا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 322/1، شرح معاني الآثار للطحاوي: 193/1)
سند ضعیف ہے۔ سفیان ثوری اور حماد بن ابی سلیمان دونوں مدلس ہیں، انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔
شرح معانی الآثار للطحاوی (193/1) کی سند اعمش کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️