سوال:
کیا نماز جنازہ میں بھی صف بندی ضروری ہے؟
جواب:
صف بندی کے لحاظ سے نماز جنازہ اور دوسری نمازوں کا حکم اور طریقہ ایک جیسا ہے، البتہ ایک فرق حدیث میں وارد ہوا ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عمیر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے گھر میں عمیر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوئے، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنے خاوند ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ وہاں ان کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/508، المستدرك للحاكم: 1/365، وسندہ صحيح)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح بخاری و مسلم بنانے کی شرط پر صحیح کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
صف بندی کا یہ طریقہ نماز جنازہ کے ساتھ خاص ہے کہ امام کے پیچھے اکیلا مرد کھڑا ہو سکتا ہے، جبکہ عام نمازوں میں صف کے پیچھے اکیلے مرد کی نماز نہیں ہوتی۔