کیا نمازِ غوثیہ ثابت ہے؟ دلائل کی روشنی میں تحقیق

یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب غیر مسنون نفلی نمازیں سے ماخوذ ہے۔

نماز غوثیہ

بعض لوگوں نے دین میں ایک نئی نماز گھڑ لی ہے اور اسے نماز غوثیہ کا نام دے کر شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے، یہ نماز بدعات وخرافات اور شرک و کفر کا ملغوبہ ہے، دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی پیروی کا نام ہے، غیر مشروع طریقوں سے تقرب الہی کا حصول ناممکن ہے، اگر چہ یہ لوگ اپنے ان کارناموں کو اچھا خیال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے طریقوں کو دین و عبادت قرار دینا فساد فی الارض ہے۔
❀ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ، أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ﴾
(البقرة : 11-12)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں: ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں، خبر دار ! حقیقت میں یہی لوگ فسادی ہیں لیکن انہیں شعور نہیں۔
بدعات، اللہ کی زمین پر فتنہ کا باعث ہیں، بعض لوگ آئے دن کوئی نہ کوئی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں ، وہ عبادات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر اکتفا نہیں کرتے۔

نماز غوثیہ کا موجد :

دنیا میں سب سے پہلے مصری صوفی ابوالحسن علی بن یوسف شطنوفی (713 ھ ) نے اس نماز کو متعارف کروایا، اس صوفی نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب عبارت یوں ذکر کی ہے:
من استعاذ بي في كربة كشفت عنه ومن ناداني باسمي في شدة فرجت عنه ومن توسل بي إلى الله عز وجل في حاجة قضيت له ومن صلى ركعتين يقرأ في كل ركعة بعد الفاتحة سورة الإخلاص إحدى عشرة مرة ثم يصلي على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد السلام ويسلم عليه ويذكرني ثم يخطو إلى جهة العراق إحدى عشرة خطوة ويذكر اسمي ويذكر حاجته فإنها تقضى بإذن الله
جو کسی مشکل میں مجھ سے مدد مانگے ، اس کی مشکل دور کر دی جائے گی ، جو مصیبت میں میرا نام لے کر پکارے، اس کی مصیبت دور کر دی جائے گی اور جو حاجت میں اللہ کو میرا وسیلہ دے کر دعا کرے، اس کی حاجت پوری کر دی جائے گی ، جو دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیج کر مجھے یاد کرے، پھر عراق کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرا نام لے کر اپنی حاجت ذکر کرے تو اللہ کے حکم سے ضرورت پوری ہو جائے گی ۔
(بهجة الأسرار و معدن الأنوار ، ص 102 ، فضل ذكر الصحابة وبشراهم)
سفید جھوٹ ہے، جو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔
➊ ابوالمعالی عبدالرحیم بن مظفر کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
➋ ابوالقاسم بزاز کی واضح توثیق درکار ہے!

بہجۃ الاسرار للشنوفی کے متعلق اہل علم کی آراء:

کئی اہل علم نے شطنوفی کی کتاب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور خرافات کا مجموعہ قرار دیا ہے۔
1۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
جمع الشيخ نور الدين الشطنوفي المقري كتابا حافلا في سيرته وأخباره في ثلاث مجلدات أتى فيه بالبرة وأذن الجرة وبالصحيح والواهي والمكذوب فإنه كتب فيه حكايات عن قوم لا صدق لهم
شیخ نور الدین شطنوفی نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی سیرت اور حالات پر تین جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے، جس میں اس نے اچھی، بری صحیح ، کمزور اور جھوٹی باتیں ذکر کر دی ہیں، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اس نے ایسے راویوں سے حکایات نقل کیں، جو سچے نہیں تھے۔
(تاريخ الإسلام : 252/12)
2۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
قال الكمال جعفر وذكر فيها غرائب وعجائب وطعن الناس في كثير من حكاياته ومن أسانيده فيها
کمال جعفر نے کہا ہے کہ شطنوفی نے اس کتاب میں منکر اور عجیب وغریب حکایات ذکر کی ہیں ، اہل علم نے اس کی بہت سی حکایات اور سندوں پر طعن کیا ہے۔
(الدرر الكامنة : 141/3)
3۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795 ھ) فرماتے ہیں:
لكن قد جمع المقرئ أبو الحسن الشطنوفي المصري في أخبار الشيخ عبد القادر ومناقبه ثلاث مجلدات وكتب فيها الطم والرم وكفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع وقد رأيت بعض هذا الكتاب ولا يطيب على قلبي أن أعتمد على شيء مما فيه فأنقل منه إلا ما كان مشهورا معروفا من غير هذا الكتاب وذلك لكثرة ما فيه من الرواية عن المجهولين وفيه من الشطح والطامات والدعاوي والكلام الباطل ما لا يحصى ولا يليق نسبة مثل ذلك إلى الشيخ عبد القادر رحمه الله ثم وجدت الكمال جعفر الادفوي قد ذكر أن الشطنوفي نفسه كان متهما فيما يحكيه في هذا الكتاب بعينه
مقری ابوالحسن شطنوفی مصری نے شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کے فضائل و مناقب میں تین جلدوں پر مشتمل کتاب لکھی ہے اور اس میں ہر جھوٹی سچی بات لکھ ماری ہے، کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق ) آگے بیان کر دے، میں نے اس کتاب کا کچھ حصہ دیکھا ، مجھے اس کی کسی بات پر اعتماد مناسب معلوم نہیں ہوتا ، میں اس سے صرف وہ مشہور و معروف چیزیں نقل کروں گا، جو اس کتاب کے علاوہ دوسری کتب میں بھی مذکور ہوں گی، اس میں مجہول راویوں کی کثرت ہے، بے تکی باتوں کی بھرمار ہے، یہ جھوٹ طوفان، بلند بانگ دعوؤں اور باطل باتوں سے اٹی پڑی ہے، جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا، شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف اس کتاب کی نسبت جائز نہیں، پھر میں نے کمال جعفر ادفوی کی یہ بات بھی پڑھی ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ مذکور ہے، یہ خود شطنوفی کی گھڑنتل ہے۔
(ذيل طبقات الحنابلة : 194/2-195)
قارئین! آپ نے نماز غوثیہ کے متعلق جان لیا ہے،جس کتاب سے اس کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے، اس کی حقیقت بھی جان چکے ہیں ۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد
جس نے کوئی ایسا عمل کیا ، جس کی اصل دین اسلام میں نہ ہو، وہ مردود و باطل ہے ۔
(صحیح مسلم : 1718 )
❀ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795 ھ) فرماتے ہیں:
هذا الحديث أصل عظيم من أصول الإسلام وهو كالميزان للأعمال في ظاهرها كما أن حديث الأعمال بالنيات ميزان للأعمال في باطنها فكما أن كل عمل لا يراد به وجه الله تعالى فليس لعامله فيه ثواب فكذلك كل عمل لا يكون عليه أمر الله ورسوله فهو مردود على عامله وكل من أحدث في الدين ما لم يأذن به الله ورسوله فليس من الدين في شيء
یہ حدیث اصول اسلام میں سے ایک بہت بڑا اُصول ہے، یہ اعمال کے لیے ظاہری طور پر ایسی ہی کسوٹی ہے، جیسے اعمال کے لیے باطنی طور پر یہ حدیث کسوٹی ہے کہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے، جس طرح وہ عمل جس کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو، کرنے والے کے لیے باعث ثواب نہیں ہوتا ، اسی طرح وہ عمل جس پر اللہ ورسول کی مہر نہ ہو، اسے عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارا جائے گا، نیز جس نے بھی دین میں ایسی چیز ایجاد کی ، جس کی اجازت اللہ و رسول نے نہیں دی ، اس کی دین میں کوئی حیثیت نہیں۔
(جامع العلوم والحكم ، ص 8)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
إن تصرفات العباد من الأقوال والأفعال نوعان عبادات يصلح بها دينهم وعادات يحتاجون إليها في دنياهم فباستقراء أصول الشريعة نعلم أن العبادات التي أوجبها الله أو أحبها لا يثبت الأمر بها إلا بالشرع
بندوں کے اقوال وافعال کی دوقسمیں ہوتی ہیں؛ ایک وہ ، جن سے ان کا دین درست ہوتا ہے اور دوسری وہ ، جن کے وہ اپنی دنیاوی زندگی میں محتاج ہیں، شریعت کے اُصولوں کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ جو عبادات اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں یا انہیں مستحب ٹھہرایا ہے، ان کا معاملہ صرف شریعت ہی سے ثابت ہوسکتا ہے۔
(القواعد النورانية، ص 78-79)
اپنی طرف سے نماز بنا کر بزرگوں کے وسیلہ پر دلیل پیش کرنا، دین نہیں ہوسکتا۔
❀ امام مالک بن انس رحمہ اللہ (179ھ) فرماتے ہیں :
من أحدث في هذه الأمة اليوم شيئا لم يكن عليه سلفها فقد زعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خان الرسالة لان الله تعالى يقول اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا فما لم يكن يومئذ دينا لا يكون اليوم دينا
امت محمدیہ میں سے جو شخص آج کے دن کوئی نیا کام کرے، جس پر اس امت کے اسلاف نے عمل نہیں کیا، تو اس نے یہ سمجھ لیا کہ (معاذ اللہ !) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت میں خیانت سے کام لیا ہے، کیونکہ فرمان الہی ہے:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
(المائدہ : 3)
آج تمہارا دین مکمل کر دیا ہے تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ہے۔ جو چیز اُس دن دین نہیں تھی ، وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی ۔
(الإحكام) في أصول الأحكام لابن حزم : 85/6، وسنده حسن)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾