مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا نفاس والی عورت اپنے گھر میں ہی بیٹھی رہے ؟

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

کیا نفاس والی عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے گھر سے نہ نکلے ؟

جواب :

نفاس والی عورت کا حکم دیگر عورتوں کی طرح ہے ، بوقت ضرورت گھر سے نکلنے میں اس پر کوئی حرج نہیں اور جب کوئی کام کاج نہ ہو تو تمام عورتوں کے لیے گھروں میں بیٹھے رہنا ہی افضل ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ [ 33-الأحزاب:33]
”اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو ۔ “
( عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔