سوال:
کیا نصف رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
جواب:
عشاء کا مختار وقت نصف رات تک ہے، اس کے بعد فجر تک غیر مختار وقت ہے، جان بوجھ کر نصف رات سے تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
❀ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما التفريط على من لم يصل الصلاة حتى يجيء وقت الصلاة الأخرى
”کوتاہی یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی نہ ہو، یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت داخل ہو جائے۔“
(صحیح مسلم: 681)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز عشاء کا وقت طلوع فجر تک ہے۔
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
إن الصحابة والتابعين اتفقوا على أن الحائض لو طهرت قبل طلوع الفجر الثاني وجبت عليها صلاة العشاء، واختلفوا فى وجوب المغرب، فلو لم يكن الوقت باقيا لما وجبت العشاء
”صحابہ کرام اور تابعین عظام کا اجماع ہے کہ حائضہ اگر طلوع فجر سے پہلے پاک ہو جائے، تو اس پر نماز عشاء فرض ہے، مغرب کے متعلق اختلاف ہے۔ اگر طلوع فجر تک عشاء کا وقت باقی نہ ہو تو نماز عشاء کی ادائیگی واجب کیسے؟“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 458/1)
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ (743ھ) فرماتے ہیں:
إجماع السلف أنه يبقى إلى طلوع الفجر
”سلف کا اجماع ہے کہ نماز عشاء کا وقت طلوع فجر تک باقی رہتا ہے۔“
(تبيين الحقائق: 81/1، درر الحكام لملا خسرو: 51/1)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:
ما إفراط صلاة العشاء؟ قال: طلوع الفجر
”نماز عشاء کی ادائیگی میں کوتاہی کیا ہے؟ فرمایا: طلوع فجر۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 159/1، وسنده صحيح)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ نماز عشاء کا افضل وقت نصف رات ہے، نصف رات کے بعد بلا عذر تاخیر کرنا کوتاہی شمار ہوگی، البتہ طلوع فجر سے پہلے نماز عشاء پڑھ لی جائے تو ادائیگی ہو جائے گی، کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ ایک نماز کا وقت دوسری نماز تک ہوتا ہے، سوائے نماز فجر کے، اس کا وقت طلوع آفتاب تک ہے۔