کیا نصاری کے مذہب میں خنزیر حلال تھا ؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

کیا نصاری کے مذہب میں خنزیر حلال تھا ؟

جواب :

خنزیر نجس العین ہے، یہ کسی مذہب میں حلال نہیں رہا۔ بعض نصاری کا یہ کہنا کہ ان کے مذہب میں خنزیر کی حلت نازل ہوئی ہے ،سراسر جھوٹ ہے اور اپنے دین میں اضافہ ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد، حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها.
”قسم ہے اس ذات کی ، جس کے ہاتھ میری جان ہے، عنقریب تم میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عادل و منصف بن کر نازل ہوں گے ، وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کریں گے اور (اس وقت ) اتنا مال و دولت بہہ جائے گا کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا ، اس وقت ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا۔“
(صحيح البخاري : 3448 ، صحیح مسلم :155)
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں :
فيه دليل أن الخنزير حرام فى شريعة عيسى، وقتله له تكذيب للنصارى أنه حلال فى شريعتهم.
”اس حدیث میں دلیل ہے کہ خنزیر عیسی علیہ السلام کی شریعت میں بھی حرام تھا، آپ علیہ السلام کا خنزیر کو قتل کرنے میں نصاریٰ کے اس دعویٰ کی تکذیب ہے کہ خنزیر ان کی شریعت میں حلال تھا۔“
(شرح صحيح البخاري : 344/6 ، التوضيح لابن ملقن : 555/14)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️