سوال:
کیا نسخ کو ماننے سے قرآن میں نقص لازم آتا ہے؟
جواب:
بعض مستشرقین اور مستغربین یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ قرآن کریم غیر محفوظ ہے۔ اس میں تغیر و تبدل اور تحریف واقع ہوئی ہے، کئی ایسی آیات ہیں، جو منسوخ ہیں، جن کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی تلاوت ہوتی رہی۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ نسخ تو اہم سابقہ میں بھی موجود تھا، محض قرآن پر اعتراض کی تو کوئی وجہ نہیں ہے اور یہ اس اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ نسخ عہد نبوی میں بھی تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ناسخ و منسوخ کی تحقیق رکھتے تھے۔ لہذا دعوائے نسخ کوئی نئی بات نہیں۔
نیز نسخ قرآن کی خوبیوں میں سے ہے، قرآن اللہ کا کلام ہے، وہ جب چاہتا، اپنے کلام کو اپنے بندوں کے لیے باقی رکھتا، جب چاہتا منسوخ کر دیتا۔ بندوں کو کوئی حق نہیں کہ کلام الہی میں نسخ کے حوالے سے تشکیک وارد کریں۔
یہ اسلوب کی حکمت ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت میں تھا کہ فلاں حکم فلاں وقت تک موزوں ہے، اسے تب تک باقی رکھا گیا، بعد میں منسوخ کر دیا گیا یا منسوخ کر کے اس سے بہتر حکم نازل کر دیا گیا۔ البتہ بعض جگہ پر حکم کو منسوخ کر کے، اس کی تلاوت کو باقی رکھا گیا ہے، اس پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے کہ جب حکم ہی نہ رہا، تو تلاوت باقی رکھنے کا فائدہ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ تلاوت باقی رکھنے میں بیش بہا حکمتیں کارفرما ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی نعمت کی یاد دہانی ہو جاتی ہے، کیونکہ جن آیات کا حکم منسوخ اور تلاوت باقی ہیں ان میں امت پر تخفیف کی گئی ہے۔
مومن کی آزمائش ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نسخ والے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، یا نہیں؟ مومن تو اسے تسلیم کر لیتا ہے اور منافق اور کافر مجادلہ و متخاصمہ کرتا ہے۔ ان آیات کی تلاوت بھی عبادت ہے اور اس پر ڈھیروں اجر و ثواب ہے۔ نسخ عقلاً بھی مانع نہیں۔ ہم اللہ کے بندے ہیں اور وہ ہمارا مالک ہے، لہذا مالک جب چاہے، حکم ارشاد فرمائے اور جب چاہے اسے منسوخ قرار دے۔ نسخ تسلیم کرنا عبودیت و غلامی کا حق ادا کرنا ہے۔
اس سے امت محمدیہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے اتباع کی عدیم النظیر مثال قائم کی ہے کہ اس حکم کو بھی تسلیم کیا، جس کے الفاظ قرآن میں موجود نہیں۔
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) نقل کرتے ہیں:
إن ذلك ليظهر به مقدار طاعة هذه الأمة فى المسارعة إلىٰ بذل النفوس بطريق الظن من غير استفصال لطلب طريق مقطوع به فيسرعون بأيسر شيء كما سارع الخليل إلىٰ ذبح ولده بمنام والمنام أدنىٰ طريق الوحي وأمثلة هذا الضرب كثيرة
نسخ میں یہ بھی حکمت ہے کہ اس سے امت محمدیہ کی کمال اطاعت ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ وہ ظن (جسے عقل جھٹ سے تسلیم نہ کرے) سے ثابت ہونے والے حکم پر بھی دل و جان سے کاربند رہتے ہیں، کسی قطعی حکم کی تفصیل طلب نہیں کرتے۔ وہ ادنیٰ سے اشارے پر لپک جاتے ہیں، جیسا کہ سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام خواب کی بنا پر اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے، جبکہ خواب وحی کا ادنیٰ ترین ذریعہ ہے۔ اس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔
(الإتقان فی علوم القرآن: 3/72)