کیا نبی ﷺ کے لیے عورت کا بغیر ولی ہبہ کرنا جائز تھا؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ جائز تھا کہ کوئی عورت خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیں تو بغیر ولی کے نکاح قائم ہو جاتا تھا؟

جواب:

یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کہ کوئی عورت اپنے نفس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول فرما لیں تو نکاح منعقد ہو جاتا تھا، ولی کی ضرورت نہ تھی۔
❀ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک عورت کہنے لگی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں خود کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، میرے متعلق اپنے خیال کا اظہار کیجیے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: ان سے میری شادی کروا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر کچھ تلاش کر لائیے، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔ راوی کہتے ہیں: وہ گیا اور نہ تو لوہے کی انگوٹھی لایا اور نہ ہی کوئی اور چیز لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ کو قرآن کی کوئی سورت یاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ان سورتوں کے عوض جو اسے یاد تھیں، اس کی شادی کر دی۔
(صحیح البخاری: 5149، صحیح مسلم: 1425)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️