مضمون کے اہم نکات
سوال
کیا آپ ﷺ کا سایہ تھا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بعض حضرات نبی کریم ﷺ کے نور ہونے کی دلیل کے طور پر یہ بات پیش کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کا سایہ نہیں تھا۔
لیکن یہ بات بالکل غلط ہے اور اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:
❖ پہلی وجہ:
◈ اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی مخلوقات ہیں جنہیں زندگی دی گئی ہے، ان تمام کا سایہ ہوتا ہے۔
◈ اگر نبی کریم ﷺ کو اس عمومی قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، تو اس کے لیے کتاب و سنت سے کوئی واضح اور صحیح دلیل ہونا لازمی ہے۔
◈ بغیر دلیل ایسی کوئی بات قطعی طور پر قبول نہیں کی جا سکتی۔
❖ دوسری وجہ:
◈ مسند احمد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا دونوں سے ایک واقعہ مروی ہے۔
◈ دونوں روایات کی سند حسن ہے۔
◈ ان روایات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
❖ واقعہ:
نبی کریم ﷺ حج کے سفر کے دوران کسی بات پر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو گئے، اور حج سے واپسی کے بعد بھی دو ماہ تک ان کے پاس نہیں گئے۔
پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں آتا ہے:
"فلما كان شهر ربيع الاول دخل عليها فرات ظله فقالت إن هذالظل رجل ومايدخل على النبى ﷺ فمن هذا فدخل النبى ﷺ الحديث.”
ترجمہ:
جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو آپ ﷺ حضرت (زینب رضی اللہ عنہا) کے پاس آئے۔
انہوں نے آتے ہوئے نبی ﷺ کا سایہ دیکھا اور کہا:
"یہ تو کسی آدمی کا سایہ ہے، اور نبی ﷺ تو میرے پاس آتے ہی نہیں، تو یہ کون ہو سکتا ہے؟”
پھر نبی کریم ﷺ اندر داخل ہوئے اور ان سے راضی ہو گئے۔
❖ نتیجہ:
◈ اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سایہ موجود تھا۔
◈ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے خود اس سایہ کو دیکھا۔
◈ جب صحیح دلیل موجود ہو، تو بے بنیاد اقوال کی عوام کے درمیان کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب