مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی نکلنے کا معجزہ ثابت ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی نکلنے کا معجزہ ثابت ہے؟

جواب:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی نکلنے کا معجزہ ثابت ہے، یہ معجزہ کئی بار رونما ہوا، اس بارے میں متعدد احادیث ہیں، جن کا مجموعہ حد تواتر تک پہنچتا ہے، نیز اس معجزہ کے ثبوت پر اہل علم کا اجماع ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نعد الآيات بركة، وأنتم تعدونها تخويفا، كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر، فقل الماء، فقال: اطلبوا فضلة من ماء، فجاؤوا بإناء فيه ماء قليل، فأدخل يده فى الإناء، ثم قال: حي على الطهور المبارك، والبركة من الله، فلقد رأيت الماء ينبع من بين أصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل
ہم معجزات کو باعث برکت سمجھتے تھے اور آپ انہیں (کفار کو) ڈرانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پانی کم پڑ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچا کھچا پانی میسر ہو، تو لے آئیں، صحابہ ایک برتن لے کر آئے، جس میں تھوڑا سا پانی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں ہاتھ ڈالا، فرمایا: مبارک پانی پر آئیں، برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی نکل رہا ہے۔ نیز ہم کھانے کی تسبیح کو سنتے تھے، جبکہ اسے کھایا جا رہا ہوتا تھا۔
(صحيح البخاري: 3579)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
حضرت الصلاة فقام من كان قريب الدار من المسجد يتوضأ، وبقي قوم، فأتي النبى صلى الله عليه وسلم بمخضب من حجارة فيه ماء، فوضع كفه، فصغر المخضب أن يبسط فيه كفه، فضم أصابعه فوضعها فى المخضب فتوضأ القوم كلهم جميعا، قلت: كم كانوا؟ قال: ثمانون رجلا
نماز کا وقت ہو گیا، تو جس کا گھر مسجد کے قریب تھا، وہ اپنے گھر وضو کرنے کے لیے چلا گیا۔ چند لوگ رہ گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک برتن لایا گیا، جس میں معمولی سا پانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی مبارک اس میں ڈالنا چاہی، مگر اس کا منہ اتنا تنگ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ہتھیلی پھیلا کر نہیں رکھ سکتے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں بند کر کے ہاتھ برتن میں ڈالا۔ (انگلیوں سے پانی پھوٹا، تو) تمام لوگوں نے اس سے وضو کیا۔ راوی حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ کتنے افراد تھے؟
فرمایا: وہ اسی (80) آدمی تھے۔
(صحيح البخاري: 3575)
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أتي النبى صلى الله عليه وسلم بإناء، وهو بالزوراء، فوضع يده فى الإناء، فجعل الماء ينبع من بين أصابعه، فتوضأ القوم، قال قتادة: قلت لأنس: كم كنتم؟ قال: ثلاث مائة، أو زهاء ثلاث مائة.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک برتن میں رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے لگا، جس سے وہاں موجود سب صحابہ نے وضو کر لیا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: تین سو یا اس کے لگ بھگ۔
(صحيح البخاري: 3572، صحيح مسلم: 2279)
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
عطش الناس يوم الحديبية والنبي صلى الله عليه وسلم بين يديه ركوة فتوضأ، فجهش الناس نحوه، فقال: ما لكم؟ قالوا: ليس عندنا ماء نتوضأ ولا نشرب إلا ما بين يديك، فوضع يده فى الركوة، فجعل الماء يتور بين أصابعه، كأمثال العيون، فشربنا وتوضأنا قلت: كم كنتم؟ قال: لو كنا مائة ألف لكفانا، كنا خمس عشرة مائة.
حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک برتن تھا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ (پانی لینے کے لیے) لوگ جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟ عرض کیا: ہمارے پاس پانی نہیں ہے، جس سے ہم وضو کریں، بلکہ پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں ہے، صرف یہی پانی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی ایسے بہنے لگا جیسے چشموں سے نکلتا ہے۔ چنانچہ ہم سب نے پانی پیا اور اس سے وضو کیا۔ سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ اس وقت کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: اس وقت ہم پندرہ سو آدمی تھے، اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے، تو ہمیں یہ پانی کافی ہو جاتا۔
(صحيح البخاري: 3576)
❀ علامہ ابوالعباس قرطبی رحمہ اللہ (656ھ) فرماتے ہیں:
الإتفاق على نبع الماء من بين أصابعه.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی جاری ہونے پر اتفاق ہے۔
(المفهم: 320/1)
❀ نیز فرماتے ہیں:
هذه المعجزة تكررت من النبى صلى الله عليه وسلم مرات عديدة فى مشاهد عظيمة، وجموع كثيرة، بلغتنا بطرق صحيحة من رواية أنس، وعبد الله بن مسعود، وجابر، وعمران بن حصين، وغيرهم ممن يحصل بمجموع أخبارهم العلم القطعي المستفاد من التواتر المعنوي.
یہ معجزہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے اہم مقامات پر اور صحابہ کے جم غفیر میں کئی مرتبہ ظاہر ہوا ہے۔ یہ معجزہ ہم تک صحیح سندوں سے پہنچا ہے، جن میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات شامل ہیں۔ ان کی مجموعی روایات سے علم قطعی و یقینی اور متواتر معنوی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
(المفهم: 52/6، شرح النووي: 215/13، التوضيح لابن ملقن: 333/4)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
في هذه الأحاديث فى نبع الماء من بين أصابعه وتكثير الطعام، هذه كلها معجزات ظاهرة وجدت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فى مواطن مختلفة وعلى أحوال متغايرة وبلغ مجموعها التواتر.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی جاری ہونے، پانی بڑھ جانے اور کھانے کے زیادہ ہونے کے بارے میں مروی یہ تمام احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف جگہوں اور مختلف موقعوں پر ظاہر ہوئے ہیں، جن کا مجموعہ حد تواتر تک پہنچتا ہے۔
(شرح النووي: 38/15)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
منه ما تواتر معناه؛ كأحاديث الشفاعة وأحاديث الرؤية، وأحاديث الحوض وأحاديث نبع الماء من بين أصابعه وغير ذلك، فهذا يفيد العلم ويجزم بأنه صدق.
بعض احادیث متواتر معنوی ہیں، جیسے شفاعت، رویت باری تعالیٰ، حوض اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے وغیرہ کے متعلق احادیث ہیں۔ متواتر معنوی بھی علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے اور بالجزم سچی ہے۔
(مجموع الفتاوى: 16/18)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
أما ما عدا القرآن من نبع الماء من بين أصابعه وتكثير الطعام وانشقاق القمر ونطق الجماد فمنه ما وقع التحدي به ومنه ما وقع دالا على صدقه من غير سبق تحد ومجموع ذلك يفيد القطع بأنه ظهر على يده صلى الله عليه وسلم من خوارق العادات شيء كثير.
جو معجزات قرآن کریم کے علاوہ ہیں، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی جاری ہونا، کھانے کا بڑھ جانا، شق قمر اور جمادات کا بولنا، ان میں بعض چیلنج کے طور پر ظاہر ہوئے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت پر بطور دلیل ظاہر ہوئے ہیں، یعنی یہ چیلنج کے جواب میں ظاہر نہیں ہوئے۔ ان کا مجموعہ اس بات کا قطعی فائدہ دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں بہت سے خارق عادت امور ظاہر ہوئے ہیں۔
(فتح الباري: 582/6)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔