مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج حالت بیداری میں ہوا تھا؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج حالت بیداری میں ہوا تھا؟

جواب:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج حالت بیداری میں ہوا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اور معجزہ تب ہی بنے گا، جب حالت بیداری میں ہو۔ قرآنی آیات اور احادیث اسی پر دلالت کناں ہیں، نیز اس پر اہل سنت والجماعت کا اجماع بھی ہے۔
❀ امام ابو بکر آجری رحمہ اللہ (360 ھ) فرماتے ہیں:
من ميز جميع ما تقدم ذكره علم أن الله عز وجل أسرى بمحمد صلى الله عليه وسلم إليه بجسده وعقله لا أن الإسراء كان مناما وذلك أن الإنسان لو قال، وهو بالمشرق: رأيت البارحة فى النوم كأني بالمغرب، لم يرد عليه قوله ولم يعارض وإذا قال: كنت ليلتي بالمغرب، لكان قوله كذبا، وكان قد تقول بعظيم إذا كان مثل ذلك البلد غير واصل إليه فى ليلته لا خلاف فى هذا، فالنبي صلى الله عليه وسلم لو قال لأبي جهل ولسائر قومه: رأيت فى المنام كأني ببيت المقدس على وجه المنام لقبلوا منه ذلك ولم يتعجبوا من قوله ولقالوا له: صدقت وذلك أن الإنسان قد يرى فى النوم كأنه فى أبعد مما أخبرتنا ولكنه لما قال لهم صلى الله عليه وسلم: أسري بي الليلة إلى بيت المقدس كان خلافا للمنام عند القوم وكان هذا فى اليقظة بجسده وعقله، فقالوا له: فى ليلة واحدة ذهبت إلى الشام وأصبحت بين أظهرنا؟ ثم قولهم لأبي بكر رضي الله عنه: هذا صاحبك يزعم أنه أسري به الليلة إلى بيت المقدس ثم رجع من ليلته وقول أبى بكر رضى الله عنه لهم وما رد عليهم، كل هذا دليل لمن عقل وميز علم أن الله عز وجل خص نبيه محمدا صلى الله عليه وسلم بأنه أسرى به بجسده وعقله وشاهد جميع ما فى السماوات ودخوله الجنة وجميع ما رأى من آيات ربه عز وجل وفرض عليه الصلاة كل ذلك لا يقال منام بل بجسده وعقله وفضلة خصه الله الكريم بها، فمن زعم أنه منام فقد أخطأ فى قوله وقصر فى حق نبيه صلى الله عليه وسلم ورد القرآن والسنة وتعرض لعظيم وبالله التوفيق
جو میری ذکر کردہ تمام معروضات پر پوری توجہ سے غور کر لے، وہ جان جائے گا کہ اللہ عز وجل نے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم کے ساتھ اور حالت بیداری میں معراج کرائی، یہ سفر نیند میں نہیں تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مشرق میں موجود کوئی انسان کہے کہ میں نے رات خواب میں دیکھا کہ میں مغرب میں ہوں، تو اس کی بات کو کوئی رد نہیں کرے گا، نہ کوئی اس سے معارضہ کرے گا۔ اور اگر وہ کہے کہ میں (حالت بیداری میں) رات مغرب میں تھا، تو اس کی بات جھوٹ ہوگی اور وہ بہت بڑے جھوٹ کا دعوے دار قرار پائے گا، اگر اس کا اس علاقے میں راتوں رات پہنچنا ناممکن ہو۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر ابو جہل اور باقی لوگوں کو یہ فرماتے کہ میں نے رات خواب میں خود کو بیت المقدس میں پایا، تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات قبول کر لیتے، آپ کی بات پر تعجب کا اظہار نہ کرتے، بلکہ کہتے: آپ نے سچ فرمایا، کیونکہ انسان کبھی خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ دور ہوتا ہے، جتنا دور ہونے کی آپ نے ہمیں خبر دی ہے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل وغیرہ کو فرمایا کہ مجھے رات بیت المقدس تک کا سفر کرایا گیا ہے، تو یہ بات ان کے لیے خواب کے علاوہ تھی، یہ حالت بیداری میں تھا اور جسم کے ساتھ اور حالت بیداری میں تھا۔ لہذا انہوں نے کہا: کیا ایک ہی رات میں آپ شام پہنچ گئے اور صبح تک ہمارے پاس بھی آ گئے؟ پھر انہوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ تمہارا صاحب (نبی) دعویٰ کرتا ہے کہ اسے راتوں رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے، پھر اسی رات واپس بھی آ گیا ہے، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا اور ان پر رد کیا، یہ سب باتیں اہل عقل اور صاحب بصیرت لوگوں کے لیے دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت بخشی ہے کہ انہیں جسم کے ساتھ اور حالت بیداری میں معراج کرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں موجود ہر شے کا مشاہدہ کیا، جنت میں داخل ہوئے، اپنے رب عز وجل کی تمام بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان پر (پانچ) نمازیں فرض کیں۔ ان سب باتوں کو خواب نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ سب جسم کے ساتھ اور حالت بیداری میں ہوا۔ یہ ایسی فضیلت ہے، جس کے ساتھ اللہ کریم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص کیا ہے۔ لہذا جو یہ دعویٰ کرے کہ معراج ایک خواب ہے، وہ اپنے دعویٰ میں خطا کار ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کمی کی ہے، قرآن و سنت کی تردید کی ہے اور بہت بڑی جسارت کا ارتکاب کیا ہے، باقی توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہے۔
(الشريعة : 1538/3)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔