میت کی طرف سے نماز پڑھنا
میت کی طرف سے نماز پڑھنا ثابت نہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
من يضمن لي منكم أن يصلي لي في مسجد العشار ركعتين أو أربعا ويقول هذه لأبي هريرة
کون ضمانت دیتا ہے کہ وہ مسجد عشار میں دو یا چار رکعت پڑھے گا، پھر کہے گا کہ یہ ابو ہریرہ کی طرف سے ہیں ؟
(سنن أبي داود : 4308)
سند ضعیف ہے۔ ابراہیم بن صالح بن درہم باہلی کمزور ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا يتابع عليه
اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
(التاريخ الكبير : 293/1)
❀ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے الضعفاء والمتروكون (26) میں ذکر کیا ہے۔ اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات : 716 میں ذکر کیا ہے، لہذا غیر معتبر ہے۔
❀ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا الحديث بأي إسناد كان فهو منكر
یہ حدیث جس سند سے بھی آئی ہے، منکر ہی ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرّجال : 29/3 ، ترجمة : خالد بن عمرو)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(جامع الأحاديث : 7174)
❀ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
الحديث غير محفوظ
یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔
(الضعفاء الكبير : 551)
معلوم ہوا کہ روایت ثابت نہیں ، لہذا اس کی بنیاد پر میت کی طرف سے نماز پڑھنے کا ثبوت درست نہ ہوا۔
کسی کی طرف سے نماز پڑھنا جائز نہیں :
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لا يصلي أحد عن أحد
کوئی کسی کی طرف سے نماز نہ پڑھے۔
(السنن الكبرى للنسائي : 2918، وسنده صحيح)
اجماع ہے کہ کوئی کسی کی طرف سے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أما الصلاة فإجماع من العلماء أنه لا يصلي أحد عن أحد فرضا عليه من الصلاة ولا سنة ولا تطوعا ولا عن حي ولا عن ميت
اہل علم کا اجماع ہے کہ کسی زندہ یا مردہ کی طرف سے نماز نہ پڑھی جائے، چاہے وہ نماز فرض ہو ،سنت ہو یا نفل ۔
(الاستذكار : 66/12،167/10)
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمعوا أنه لا يصلي أحد عن أحد
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ کوئی کسی کی طرف سے نماز نہ پڑھے۔
(عمدة القاري : 125/9)
فائدہ :
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
أمر ابن عمر امرأة جعلت أمها على نفسها صلاة بقباء فقال صلي عنها
انہوں نے اس عورت کو حکم دیا، جس کی ماں نے قبا میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے نماز پڑھے۔
(صحيح البخاري، قبل الحديث : 6698)
اس کی سند نہیں مل سکی۔ دین باسند صحیح روایات کا نام ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا تعلق نذر سے ہے ، عام نماز سے نہیں۔