مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا میت کو چھونے پر وضو ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا میت کو چھونے پر وضو ہے؟

جواب:

میت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمع أهل العلم على أن رجلا لو مس جيفة، أو دما، أو خنزيرا ميتا، أن الوضوء غير واجب عليه، فالمسلم الميت أحرى أن لا يكون على من مسه طهارة، والله أعلم
اہل علم کا اجماع ہو چکا ہے کہ اگر کوئی شخص مردار، خون یا مردہ خنزیر کو چھوئے، تو اس پر وضو واجب نہیں، تو مسلمان میت زیادہ لائق ہے کہ اسے چھونے پر وضو واجب نہ ہو، واللہ اعلم!
(الأوسط: 350/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔