سوال:
کیا میت کو غسل دینا واجب ہے؟
جواب:
میت کو غسل دینا ورثا پر واجب ہے۔
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
يجب على الأحياء، إذ لا وجوب بعد الموت من الواجبات المتعلقة بالبدن
یہ زندہ لوگوں پر فرض ہے، کیونکہ موت کے بعد بدن کے متعلقہ واجبات میں سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی۔
(الدراري المضيّة: 1/70)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ایک صحابی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ میں کھڑے تھے کہ اچانک اپنی سواری سے گر گئے اور موقع پر ہی فوت ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا: انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں۔
(صحیح البخاری: 1266، صحیح مسلم: 1206)
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فوت ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابیات سے فرمایا:
اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك، إن رأيتن، بماء وسدر
اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ یا ضروری سمجھیں تو اس سے بھی زیادہ دفعہ غسل دیں۔
(صحیح البخاری: 1253، صحیح مسلم: 939)