مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا مولانا کہلوانا جائز ہے؟ قرآنی و حدیثی دلائل سے وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر: 512

سوال

ایک مولوی صاحب نے سورۃ البقرۃ کی آخری آیت تلاوت کی:

﴿أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾…البقرة﴾
اور اس سے یہ استدلال کیا کہ "مولانا” کہلوانا ناجائز ہے۔ کیا یہ استدلال درست ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت سے یہ استدلال کرنا کہ "مولانا” کہلوانا ناجائز ہے، درست نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ "مولانا” کہلوانا جائز ہے۔

اس آیت سے جو استدلال کیا گیا ہے، وہ درست نہیں ہے کیونکہ "مولانا” ایک مشترکہ لفظ (لفظِ مُشترک) ہے، جس کے کئی مختلف معانی ہیں۔ اس لیے یہ لفظ مختلف مواقع پر مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

"مولیٰ” کا معنی اور استعمال

"مولیٰ” کا مطلب مختلف مقامات پر مختلف سیاق و سباق کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ "النهاية” میں وضاحت کی گئی ہے:

"وفى النهاية: المولى يقع على جماعة كثيرة كالرب، والمالك، والسيد، والمنعم، والمعتق، والناصر، والمحب، والتابع، والجار، وابن العم، والحليف، والمقيد، والمهرو، والعبد، والمنعم عليه.”

یعنی "مولیٰ” کا لفظ رب، مالک، سردار، انعام دینے والا، آزاد کرنے والا، مددگار، محب، تابع، پڑوسی، چچا زاد، حلیف، قیدی، شوہر، غلام، اور جس پر انعام کیا گیا ہو— سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہی بات اس کے کثرتِ معانی کی دلیل ہے کہ ایک ہی لفظ کو مختلف اشخاص کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا "مولیٰ” کا استعمال غیراللہ کے لیے

رسول اللہ ﷺ نے "مولیٰ” کا لفظ غیر اللہ کے لیے بھی استعمال فرمایا، جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:

"عن زيد بن أرقم عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كنت مولاه فعلى مولاه.”
(سنن ترمذى، كتاب المناقب، رقم الحديث: ٣٧١٣)

اس حدیث میں ایک ہی لفظ یعنی "مولیٰ” کو نبی کریم ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ— دونوں کے لیے ایک ہی وقت میں اور ایک ہی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ "مولیٰ” کا لفظ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔
اگر "مولانا” کہنا ناجائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے کسی غیر اللہ کے لیے استعمال نہ فرماتے۔

مزید دلیل

اسی مفہوم کی مزید تائید صحیح بخاری کی حدیث سے بھی ہوتی ہے:

"عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا يقل أحدكم أطعم ربك وضئ ربك، وليقل سيدى ومولاى.”
(صحيح البخارى، كتاب العتق، رقم الحديث: ٢٥٥٢)

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ "رب” کا لفظ کسی غیر اللہ کے لیے استعمال نہ کرو، بلکہ اس کی جگہ "سیدی” (میرے سردار) اور "مولای” (میرے آقا) کہا کرو۔
یہ اس بات کی مزید وضاحت ہے کہ "مولیٰ” یا "مولانا” جیسے الفاظ غیر اللہ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ھذا ما عندی، واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔