مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا مسلمان سے لڑائی کرنا موجب کفر ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا مسلمان سے لڑائی کرنا موجب کفر ہے؟

جواب:

اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ مؤمن کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہو جاتا۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔
(صحيح البخاري: 48، صحیح مسلم: 64)
مسلمان کا مسلمان سے لڑائی کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، اس پر اگرچہ کفر کی وعید آئی ہے، مگر یہاں کفر سے مراد کفر دون کفر ہے، جس کے ارتکاب سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
❀ علامہ کرمانی رحمہ اللہ (786ھ) فرماتے ہیں:
إن الإجماع من أهل السنة منعقد على أن المؤمن لا يكفر بالقتال ولا بفعل معصية أخرى
اہل سنت کا اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ (مسلمان کے ساتھ) لڑائی کرنے یا کسی اور معصیت کا ارتکاب کرنے سے مؤمن کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
(شرح الكرماني: 190/1)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔