سوال:
کیا مرتد کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے؟
جواب:
مرتد کی سزا قتل ہے، احادیث صحیحہ اور اجماع امت اسی پر دال ہیں، اسے عمر قید یا کوئی اور سزا دینا جائز نہیں۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن المرتد لا يسبى
اہل علم کا اجماع ہے کہ مرتد کو قید کی سزا نہیں دی جائے گی (بلکہ اسے قتل کیا جائے گا)۔
(شرح النووي: 204/1)
❀ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لما قدم عليه ألقى له وسادة، قال: انزل، وإذا رجل عنده موثق، قال: ما هذا؟ قال: كان يهوديا فأسلم ثم تهود، قال: اجلس، قال: لا أجلس حتى يقتل، قضاء الله ورسوله، ثلاث مرات، فأمر به فقتل
جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (یمن میں) ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے ان کے لیے گدا بچھایا اور کہا: نیچے آئیے، اسی دوران (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ) ان کے یہاں ایک شخص باندھا ہوا ہے، کہنے لگے: یہ کیا؟ عرض کیا: یہ یہودی تھا، مسلمان ہوا، پھر (مرتد ہو کر) یہودی ہو گیا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: (سواری سے) نیچے تو آئیے، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: جب تک اس مرتد کو قتل نہیں کیا جاتا، بیٹھوں گا نہیں، یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔
(صحيح البخاري: 6923، صحیح مسلم: 1733)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
فيه وجوب قتل المرتد وقد أجمعوا على قتله
یہ حدیث دلیل ہے کہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے، اسے قتل کرنے پر اہل علم کا اجماع ہے۔
(شرح النووي: 208/12)
❀ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
الحديث دليل على أنه يجب قتل المرتد، وهو إجماع
یہ حدیث دلیل ہے کہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے، یہ اجتماعی مسئلہ ہے۔
(سُبل السلام: 383/2)