مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا مجوس سے جزیہ لیا جائے گا؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا مجوس سے جزیہ لیا جائے گا؟

جواب:

وہ مجوس جو مسلم ریاست میں قیام پذیر ہوں، ان سے جزیہ وصول کیا جائے، بدلے میں ان کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔
❀ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ (620ھ) فرماتے ہیں:
إن أخذ الجزية من أهل الكتابين والمجوس ثابت بالإجماع، لا نعلم فيه خلافا، فإن الصحابة رضي الله عنهم أجمعوا على ذلك، وعمل به الخلفاء الراشدون، ومن بعدهم إلى زمننا هذا، من غير نكير ولا مخالف، وبه يقول أهل العلم من أهل الحجاز والعراق والشام ومصر وغيرهم، مع دلالة الكتاب على أخذ الجزية من أهل الكتاب، ودلالة السنة على أخذ الجزية من المجوس
اہل کتاب اور مجوس سے جزیہ وصول کرنا بالا جماع ثابت ہے، ہم اس میں اختلاف نہیں جانتے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اجماع کیا ہے، نیز خلفائے راشدین اور ان کے بعد ہمارے زمانے تک کے لوگوں نے اس پر عمل کیا ہے، ان پر کسی نے نکیر کی نہ ان کی کسی نے مخالفت کی۔ حجاز، عراق، شام اور مصر وغیرہ کے اہل علم اسی کے قائل ہیں، اہل کتاب سے جزیہ لینے پر قرآن کریم دلالت کرتا ہے اور مجوس سے جزیہ وصول کرنے پر حدیث مبارکہ دلالت کناں ہے۔
(المغني: 205/13)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔