کیا متعہ حرام ہے اور لونڈی سے تعلق جائز؟ مدلل شرعی جواب

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ، جلد 3، نکاح و طلاق کے مسائل، صفحہ 166
مضمون کے اہم نکات

متعہ اور لونڈی سے تعلق کے بارے میں شیعہ کے اعتراض کا مدلل جواب

سوال

ایک شیعہ فرد کی طرف سے سوال کیا گیا کہ اگر متعہ (عارضی نکاح) کو حرام قرار دیا گیا ہے، تو پھر یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ایک شخص لونڈی کے ساتھ بغیر نکاح کیے ہمبستری کرے؟

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!

اس سوال کے جواب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

متعہ کا حکم اور اس کی حرمت پر دلائل
لونڈی سے تعلق کا جواز اور قرآن سے استدلال

1۔ متعہ کی حرمت پر دلائل

حدیث خیبر اور اس کی سند

امام ابن شہاب الزہری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کی ہے:

"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر”

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے متعہ سے منع فرما دیا۔
(المؤطا امام مالک بروایت یحییٰ 2/542، ح1178، کتاب الأم للشافعی 5/79، ح1634، مسند احمد 1/79، ح593، صحیح بخاری 5115، صحیح مسلم 1407، ترقیم دارالسلام 3431)

راویوں کی توثیق:

محمد بن علی بن ابی طالب (ابن الحنفیہ): ثقہ عالم۔ (تقریب التہذیب 6157)
عبداللہ بن محمد بن علی بن ابی طالب: ثقہ، (تقریب التہذیب 3593، طبقات ابن سعد 5/328)
حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب: ثقہ فقیہ، (تقریب التہذیب 1284)
امام ابن شہاب الزہری: روایت میں "اخبرنی” کے الفاظ سے سماع کی تصریح کی (صحیح بخاری 5115)

دیگر احادیث متعہ کی حرمت پر:

1. سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ:
متعہ کی اجازت اوطاس کے سال دی گئی، پھر اس سے منع کر دیا گیا۔
(صحیح مسلم: 1405، ترقیم دارالسلام: 3418)

2. سیدنا سبرہ بن معبد الجہنی رضی اللہ عنہ:

"يا أيها الناس إني قد كنت أذنت لكم في الاستمتاع من النساء وإن الله قد حرم ذلك إلى يوم القيامة”

(صحیح مسلم: 1405، ترقیم دارالسلام: 3422)

3. سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ:
"نکاح، طلاق، عدت اور میراث نے متعہ کو حرام اور ختم کر دیا ہے۔”
(صحیح ابن حبان الاحسان 4137، 4149، الموارد 1267)

4. سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:
"اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو خیبر کے دن حرام قرار دیا تھا۔”
(السنن الکبری للبیہقی 7/202)

5. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ متعہ کی اجازت دی، پھر اسے حرام کر دیا۔ شادی شدہ ہو کر متعہ کرے تو میں اسے رجم کروں گا۔”
(سنن ابن ماجہ 1963، البحر الزخار للبزار 183)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف:

"إنك امرؤٌ تائه” — یعنی تو بیوقوف ہے۔

(مسند ابی عوانہ 2/276، السنن الکبری للبیہقی 7/202، صحیح مسلم 1407، ترقیم دارالسلام: 3423)

دیگر صحابہ کا اتفاق:

◈ سیدنا عمر، ابن الزبیر، ابن عباس اور دیگر صحابہ کا اجماع حرمت پر تھا۔
◈ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آخری عمر میں رجوع کر لیا تھا۔
(مسند ابی عوانہ 2/273، ح3284)

تابعین کے اقوال:

امام سعید بن المسیب:

"نَسَخَت المُتعةَ آية الميراثُ”

(مصنف ابن ابی شیبہ 4/292، ح17064)

امام مکحول الشامی:

"ذلك الزنا” — یعنی یہ زنا ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ 4/294، ح17072)

شیعہ کتب میں بھی حرمت کا اعتراف:

ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا:

"حرم رسول الله صلى الله عليه وآله يوم خيبر لحوم الحمر الأهلية ونكاح المتعة”

(الاستبصار فیما اختلف من الاخبار ج3ص202)
یہ روایت اہل سنت کی صحیح احادیث کے مطابق ہے، لہٰذا یہ تقیہ نہیں بلکہ صریح دلیل ہے۔

امام ابن شہاب الزہری کا قول:

"ما رأيت قوماً أشبه بالنصارى من السبئية”

احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: (هم الرافضة)
(الشریعہ للاجری ص955، ح2028)

2۔ لونڈی سے ہمبستری کا جواز قرآن سے

قرآن مجید کی آیات:

﴿وَالَّذينَ هُم لِفُروجِهِم حـٰفِظونَ ﴿٥﴾ إِلّا عَلىٰ أَزو‌ٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ مَلومينَ ﴿٦﴾ فَمَنِ ابتَغىٰ وَراءَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ العادونَ ﴿٧﴾

"اور وہ(مومنین) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ،سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ،پس اس میں اُن پر کوئی ملامت نہیں ہے۔پھر جس نے اس کے علاوہ کوئی دوسری(چیز)طلب کی تو یہی لوگ سرکش ہیں۔”
(سورۃ المؤمنون: آیات 5-7)

تشریح:

◈ مومنین اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے۔
◈ ان کے علاوہ اگر کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ حرام ہے۔
◈ لونڈی سے تعلق اس کے بیوی ہونے کے حکم میں ہے۔

آج کے دور میں حکم کا اطلاق:

◈ موجودہ دور میں غلام و لونڈی کا نظام نہیں رہا کیونکہ خلافت اسلامی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
◈ اس کے باوجود قرآن کی آیت سے یہ واضح ہے کہ نکاح یا ملکیت کے بغیر کوئی اور تعلق ممنوع ہے۔

متعہ کی وقتی اجازت اور دائمی حرمت:

◈ متعہ ابتدا میں مخصوص حالات میں اجازت یافتہ تھا۔
◈ بعد ازاں قیامت تک کے لیے حرام کر دیا گیا۔
(14 جنوری 2010ء کا فتویٰ)

خلاصہ کلام:

◈ متعہ کی حرمت احادیث صحیحہ، اجماع صحابہ، تابعین کے اقوال اور بعض شیعہ روایات سے بھی ثابت ہے۔
◈ لونڈی سے تعلق جائز تھا کیونکہ وہ بیوی کے حکم میں ہوتی ہے۔
◈ آج کے دور میں متعہ یا اس جیسی دیگر صورتیں (مشت زنی، دوستیاں، وغیرہ) سراسر حرام ہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب