کیا مالی مقدمات میں عورت کی شہادت و گواہی مقبول ہے؟ کتاب و سنت سے وضاحت
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا مالی مقدمات میں عورت کی شہادت و گواہی مقبول ہے؟ کتاب و سنت کے دلائل کی رو سے وضاحت کریں۔

جواب :

عام طور پر شہادت کے مسئلہ میں ثقہ و عادل مسلمان کی گواہی شرعاً مطلوب و مقصود ہے، لیکن اگر مقدمات مالی نوعیت کے ہوں اور دو مرد گواہ میسر نہ ہوں تو ایک مسلم مرد کے ساتھ دو مسلم خواتین کی شہادت و گواہی مقبول ہو گی اور اگر سرے سے مرد گواہ نہ ہو تو چار عورتوں کی گواہی بھی قابل قبول نہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ ۖ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾
”اپنے لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، دو مردوں کو گواہ بنا لو اور اگر دو مرد گواہ نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہی سہی، اس لیے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔“
(البقرة 282)
یہ فرق عورت کی تحقیر کے پہلو سے نہیں بلکہ اس کی مزاجی خصوصیات اور اس کے حالات و مشاغل کے لحاظ سے ہے۔ یہ ذمہ داری اس کے لیے ایک بھاری ذمہ داری ہے، اس وجہ سے شریعت نے اس کے اٹھانے میں اس کے لیے سہارے کا انتظام کر دیا ہے۔ اسی طرح صحیح بخاری کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے امور جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، جن سے مردوں کی واقفیت نہیں ہوتی، اس میں تنہا عورت کی گواہی قبول ہے، جیسا کہ مسئلہ رضاعت اور حیض وغیرہ ہے۔ (فتح الباری) البتہ حدود، قصاص، نکاح و طلاق میں مرد کی گواہی کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسا کہ امام ابوعبید کی کتاب الاموال اور الفقہ الاسلامی میں تفصیل موجود ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے