کیا مؤذن کو لمبی اذان دینے کی اجازت ہے؟ وضاحت اور دلائل

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، ج1، ص317
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیا مؤذن لمبی اذان دے سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

✿ اذان کو مناسب حد تک لمبا کرنا درست ہے، لیکن بہت زیادہ لمبی اذان دینا درست نہیں۔
✿ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اذان بلا وجہ پانچ سے دس منٹ تک کھینچ دی جائے تو سننے والے اکتا جاتے ہیں اور اذان کا جواب دینا چھوڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اذان کے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس محرومی کی ذمہ داری ایسے متکلف مؤذن پر عائد ہوتی ہے۔
✿ دوسری قباحت یہ ہے کہ جب کلمات کو بلا وجہ کھینچا جائے تو حروف بدل جاتے ہیں اور الفاظ میں تحریف لفظی واقع ہو جاتی ہے، جو خود شریعت کے خلاف ایک جرات ہے۔

البتہ مناسب طوالت اختیار کرنا بلاشبہ جائز ہے۔

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ:
«يَا بِلَالُ، إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ، وَإِذَا أَقَمْتَ خافذ»
(جامع الترمذی)

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے بلال! جب تو اذان دے تو ہر کلمہ الگ الگ اور آہستہ آہستہ ادا کر، اور جب اقامت کہے تو جلدی جلدی پڑھ۔‘‘

حدیث کی سند کے بارے میں حکم

✿ یہ حدیث ضعیف ہے۔
✿ امام ترمذی فرماتے ہیں: رَوَاہ الترمذی وقال لا نعرِفُہ إلا من حدیث عَبدالمُنعم وھو إسناد مجھول۔
✿ اس میں دوسرا راوی عمرو بن واقد بھی ضعیف ہے۔
✿ امام دارقطنی نے کہا: ھو متروك۔
✿ امام ابن عدی فرماتے ہیں: یُکتب حدیثہ مع ضعف۔

اس حدیث کے دو اور شواہد بھی ہیں:
➊ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت جو امام ابوالشیخ نے نقل کی۔
➋ حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت جو عبداللہ بن احمد نے بیان کی۔

تاہم یہ دونوں شواہد بھی ضعیف ہیں۔

تقویت بالمعنی

اگرچہ اس حدیث کے طرق سب ضعیف ہیں، لیکن اس کے بیان کردہ مفہوم سے اذان کا مقصد ظاہر ہوتا ہے:

✿ اذان غیر حاضر نمازیوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لیے ہے۔
✿ اس مقصد کے تحت اذان کے کلمات کو الگ الگ اور ٹھہر ٹھہر کر کہنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سن سکیں۔
✿ جبکہ تکبیر (اقامت) صرف ان نمازیوں کے لیے ہے جو مسجد میں موجود ہوں، اس لیے اسے لمبا کرنے کی ضرورت نہیں۔

اسی وجہ سے امام حاکم نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی طرف میلان ظاہر کیا۔ (تنقیح الرواة شرح المشكوة: ج۱، ص۱۱۴)

خلاصہ

✿ اذان کو مناسب طور پر لمبا کرنا درست اور مستحب ہے۔
✿ بلاوجہ بہت زیادہ لمبی اذان دینا ناجائز ہے کیونکہ اس سے:
◈ سننے والے اذان کا جواب دینا چھوڑ دیتے ہیں۔
◈ اذان کے الفاظ میں تحریف کا خطرہ رہتا ہے۔
◈ ریاکاری کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب