مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا لعان طلاق ہے

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

کیا لعان طلاق ہے
اس مسئلے میں فقہا نے اگرچہ اختلاف کیا ہے لیکن راجح بات یہی ہے کہ لعان فسخ ہے طلاق نہیں کیونکہ اس کے بعد عورت مرد پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے جبکہ طلاق میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس میں فوراََ دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جاتی ہے جبکہ طلاق میں ایسا نہیں کیا جاتا۔ اور اس میں لعان کے بعد مرد پر عورت کا نفقہ و خرچہ اور رہائش لازم نہیں رہتی جبکہ طلاق رجعی کے بعد یہ لازم ہوتا ہے۔
(جمہور ) لعان فسخ نکاح ہے۔
(ابو حنیفہؒ) لعان طلاق ہے۔
[نيل الأوطار: 370/4]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔