مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ مکمل شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

قے کرنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روزے کی حالت میں قے آنے کے بارے میں شریعت کا حکم درج ذیل ہے:

➊ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

◈ اگر کوئی شخص ارادۃً یعنی جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

◈ ایسی صورت میں قضا لازم ہوگی یعنی بعد میں اس روزے کی تلافی کرنا پڑے گی۔

➋ بغیر ارادے کے قے ہو جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا

◈ اگر قے خود بخود بغیر کسی ارادے کے ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

◈ ایسی حالت میں روزہ برقرار رہتا ہے اور اس پر قضا واجب نہیں ہوتی۔

➌ حدیث مبارکہ سے دلیل

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْئُ فَلا قضاءَ عَلَيْهٌِ وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمَدًا فَلْيَقْضِ»

(سنن ابي داؤد، الصوم، باب الصائم يستقی عمدا، ح: ۲۳۸۰، جامع الترمذی، الصوم باب ماجاء فيما استقاء عمدا، ح: ۷۲۰)

ترجمہ:
"جسے خود بخود قے آجائے، اس پر قضا نہیں ہے اور جو شخص جان بوجھ کر قے کرے، وہ قضا ادا کرے۔”

➍ قے کے غالب آجانے کی صورت میں کیا کیا جائے؟

◈ اگر قے کا غلبہ ہو جائے اور معدہ میں موجود چیزیں باہر نکلنے کا اندیشہ ہو:

✿ ایسی حالت میں قے کو نہ روکیں اور نہ ہی جان بوجھ کر کریں۔

نہ اسے واپس نگلنے کی کوشش کریں اور نہ ارادۃً قے کو لائیں۔

عام حالت میں کھڑے رہیں اور جو ہونا ہے اسے ہونے دیں۔

◈ اگر قے ارادۃً نہیں ہوئی بلکہ خود بخود ہوئی تو اس سے نہ روزے کو نقصان ہوگا اور نہ ہی روزہ ٹوٹے گا۔

◈ اگر قے کو روکنے کی کوشش کی تو یہ عمل تکلیف دہ ہوگا، لہٰذا فطری طریقے سے اسے ہونے دینا بہتر ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔