سوال :
کیا مقروض شخص پر حج فرض ہوتا ہے؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب کسی شخص پر اتنا قرض ہو کہ اس کا پورا مال اسی قرض کی ادائیگی میں صرف ہو جائے، تو ایسی حالت میں اس پر حج فرض نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حج صرف اسی شخص پر فرض کیا ہے جو استطاعت (یعنی مالی و جسمانی طاقت) رکھتا ہو۔
قرآن مجید کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا…﴿٩٧﴾﴾… سورة آل عمران
’’اور لوگوں پر اللہ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھے وہ اس کا حج کرے۔‘‘
مفہومِ استطاعت:
اگر کسی شخص پر اتنا قرض ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مالی طور پر استطاعت نہیں رکھتا۔ ایسی صورت میں:
✿ سب سے پہلے وہ شخص اپنا قرض ادا کرے۔
✿ پھر بعد میں جب اس کے لیے مالی آسانی ہو جائے، تو حج کر لے۔
اگر قرض مال سے کم ہو:
اگر قرض کی مقدار مال سے کم ہو اور قرض ادا کرنے کے بعد کچھ مال باقی رہتا ہو، تو:
✿ قرض کی ادائیگی کے بعد حج ادا کرنا ممکن ہے، خواہ وہ حج فرض ہو یا نفل۔
فرض حج کی صورت میں:
✿ اگر وہ فرض حج ہے، تو یہ شخص واجب الادا ہے، یعنی اسے جلد از جلد ادا کرنا لازم ہے۔
نفل حج کی صورت میں:
✿ اگر وہ نفل حج ہے، تو اس شخص کو اختیار حاصل ہے، چاہے تو حج ادا کرے اور چاہے تو نہ کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
ھٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب