کیا قرآن کی قسم کھانا جائز ہے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا قرآن کریم غیر اللہ ہے یا نہیں اور کیا اس کی قسم کھانا جائز ہے؟

جواب:

قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، کلام اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صفات الہیہ اللہ تعالیٰ سے الگ نہیں ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات دونوں کی قسم اٹھائی جا سکتی ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:
”اس پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ، اللہ کے کسی نام، اس کی کسی صفت، قرآن کریم یا اس کے کسی حصے کی قسم اٹھائی اور نبھا نہ سکا، تو اس پر قسم کا وہ کفارہ واجب ہے، جو اللہ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے، اہل فرع کے ہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ کی قسم کی تصریح ان الفاظ میں ہے؛ بالله، الله، والله۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 369/14)
❀ علامہ ابن ابی العز رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:
”قرآن کی قسم اٹھانا جائز ہے، جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کا موقف ہے، کیوں کہ یہ ہمارے زمانے میں متعارف ہو چکا ہے۔ اس کی بات قابل التفات نہیں، جو کہتا ہے کہ قرآن کی قسم نہیں اٹھائی جا سکتی کہ یہ مخلوق ہے، قرآن کو مخلوق کہنا معتزلہ کا مذہب ہے اور یہ کفر ہے، کیوں کہ معلوم ہے کہ قرآن اللہ کی مخلوق نہیں کلام ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 86/4-87)