سوال:
کیا قرآن متواتر منقول ہے؟
جواب:
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا معجزہ اور حقیقی کلام ہے، مخلوق نہیں۔ اس نے اسے صوت و حروف کے ساتھ کلام کیا ہے۔ یہ وحی منزل ہے، جو جبریل علیہ السلام کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی۔ مصاحف میں مکتوب ہے اور تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ اس کی تلاوت عبادت ہے۔
❀ علامہ عبدالرحمن بن محمد بن قاسم رحمہ اللہ (1392ھ) فرماتے ہیں:
إن القرآن كلام الله حقيقة، منزل غير مخلوق، سمعه جبريل من الله تعالى، وسمعه محمد صلى الله عليه وسلم من جبريل، ثم سمعه الصحابة رضي الله عنهم من محمد صلى الله عليه وسلم، وهو القرآن الذى نقرؤه بألسنتنا، محفوظ بين الدفتين وفي صدورنا، يسمع ويكتب ويحفظ، وحرفه كله منه كالباء والتاء كلام الله غير مخلوق، ابتداؤه من الله تعالى وإليه يعود، حروفه ومعانيه كلها من عند الله، لا حروفه فقط ولا معانيه فقط، ويبدع أهل السنة من قال: إنه ألقي فى قلب النبى صلى الله عليه وسلم بعقل فعال كما قال الفلاسفة والصابئة، أو قال: إنه خلق فى جسم كما قال المعتزلة والجهمية، أو فى جبريل أو محمد صلى الله عليه وسلم أو غيرهما كما قال الكلابية والأشعرية، أو قال: إنه حروف وصوت مركب قديم أزلي كما قال الكلامية، أو قال: إنه حادث قائم بذات الله تعالى لكن ممتنع كان للإله فى الأزل أن يتكلم كما قال الهاشمية والكرامية
اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا حقیقی کلام ہے، یہ منزل ہے، مخلوق نہیں، جسے جبریل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سنا۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سنا۔ یہ وہی قرآن ہے، جسے ہم اپنی زبان سے تلاوت کرتے ہیں، یہ دو دفتوں کے درمیان اور ہمارے سینوں میں محفوظ ہے۔ اسے سنا بھی جاتا ہے، لکھا بھی جاتا ہے اور (کتاب اور سینے میں) محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کا ہر ہر حرف مثلاً باء، تاء، اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں، اس کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی اور (قیامت کو) اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔ اس کے حروف اور معانی سب منجانب اللہ ہیں، نہ کہ صرف حروف، یا صرف معانی۔ اہل سنت ان لوگوں کو بدعتی قرار دیتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ قرآن کو عقل فعال وغیرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر ڈال دیا گیا، جیسا کہ فلاسفہ اور صابی کہتے ہیں۔ یا جو کہتے ہیں کہ قرآن کو کسی جسم میں پیدا کر دیا گیا، جیسا کہ معتزلہ اور جہمیہ کہتے ہیں۔ یا جبریل علیہ السلام میں یا محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کے علاوہ کسی اور جسم میں پیدا کیا گیا، جیسا کہ کلابیہ اور اشعریہ کہتے ہیں۔ یا جس نے یہ کہا کہ قرآن حروف اور صوت کا مرکب ہے، جو کہ قدیم اور ازلی ہیں، جیسے کلامیہ کہتے ہیں۔ یا یہ کہا کہ قرآن حادث ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات سے قائم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے (ازل میں یہ کلام کرنا) ممتنع تھا، جیسا کہ ہاشمیہ اور کرامیہ کہتے ہیں۔
(مقدمة التفسير، ص 13-25)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
أما القرآن العظيم، سوره وآياته، فمتواتر، ولله الحمد، محفوظ من الله تعالى لا يستطيع أحد أن يبدله، ولا يزيد فيه آية، ولا جملة مستقلة، ولو فعل ذلك أحد عمدا، لانسلخ من الدين
قرآن عظیم کی سورتیں اور آیات متواتر ہیں، وللہ الحمد۔ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے ساتھ محفوظ ہے، کوئی اس میں تبدیلی یا زیادتی نہیں کر سکتا، نہ کوئی جملہ بڑھا سکتا ہے، اگر کوئی جان بوجھ کر ایسا کرے گا، تو وہ دین سے نکل جائے گا (یعنی مرتد ہو جائے گا)۔
(سير أعلام النبلاء: 10/171)
❀ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نسخت الصحف فى المصاحف، ففقدت آية من سورة الأحزاب كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ بها، فلم أجدها إلا مع خزيمة بن ثابت الأنصاري الذى جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته شهادة رجلين، وهو قوله: من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه
میں نے قرآن کریم مختلف اوراق سے ایک مصحف میں نقل کیا، مگر مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا تھا، وہ آیت صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی، جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بندوں کے قائم مقام قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی:
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ
(سورۃ الاحزاب: 23)
مؤمنوں میں سے بعض نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
(صحيح البخاري: 2807)
اس حدیث کی بنا پر اشکال پیدا کیا جاتا ہے کہ قرآن کی ہر ہر آیت متواتر نہیں ہے، کیونکہ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 23 صرف خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے لی گئی ہے، دوسرے کسی صحابی سے نہیں اور یہ خبر واحد ہے۔
عرض ہے کہ اس حدیث میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ ان الفاظ کو آیت صرف خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے قرار دیا۔ دراصل زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق کہا کہ مجھے وہ آیت بھول گئی تھی، خزیمہ رضی اللہ عنہ کے یاد کرانے سے یاد آگئی، کیونکہ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنتا تھا، نیز قرآن اوراق کی طرح سینوں میں بھی محفوظ تھا۔