مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا غصے کی حالت میں ایلاء منعقد ہو جاتا ہے

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

کیا غصے کی حالت میں ایلاء منعقد ہو جاتا ہے
راجح مسلک یہی ہے کہ ہر حال میں ایلاء منعقد ہو جاتا ہے کیونکہ غصے کے ہونے یا نہ ہونے کی شریعت نے کوئی شرط نہیں لگائی۔ علاوہ ازیں یہ ایک لحاظ سے قسم ہی ہے اور قسم بالاتفاق ہر حال میں اٹھائی جا سکتی ہے۔
(ابن مسعود رضی الله عنہ ) غصہ ہو یا نہ ہو ہر حال میں ایلاء منعقد ہو جاتا ہے۔
(شافعیؒ ، مالکؒ ، احمدؒ) اسی کے قائل ہیں۔
(ابن عباس رضی اللہ عنہما ، علی رضی اللہ عنہ ) ایلاء صرف غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔ (امام لیث ، امام شعبی ، امام حسن اور امام عطاء رحمہم اللہ اجمعین بھی یہی موقف رکھتے ہیں ) ۔
[تفسير اللباب فى علوم الكتاب: 101/4 ، تفسير قرطبي: 70/3 ، تفسير طبري: 459/4]
عورت سے خواہ ہم بستری کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو صحتِ ایلاء میں دونوں برابر ہیں ۔ [أيضا]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔