سوال :
عید کے موقع پر جو لوگ عید کارڈ خریدتے اور دوست احباب کو ارسال کرتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب :
رمضان المبارک جیسے پر رحمت اور بابرکت مہینے میں ایک مسلمان کو اپنی نجات کی فکر دامن گیر ہونی چاہیے اور جہنم کی خطرناک اور وحشت ناک وادی سے بچاؤ کا سامان فراہم کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس ماہ مبارک میں انسان کا تزکیہ نفس، تزکیہ اخلاق، تزکیہ عادات اور تزکیہ اموال وغیرہ اس کثرت سے ہوتا ہے جو عام دنوں میں دیکھنے میں نہیں آتا، ایک باعمل مسلمان عقائد و اعمال کے وہ باغ و بہار اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے جس کی وجہ سے جہنم کی ہولناکیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو اس ماہ مبارک میں اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة
(صحيح ابن خزيمة 188/3 ح 1883، ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء في فضل شهر رمضان ح 682، صحیح ابن حبان ح 3435، مستدرك الحاكم 421/1، ح : 1532)
جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک بھی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں رہتا اور ایک منادی کرنے والا کہتا ہے: ”اے خیر کے متلاشی! آگے بڑھ اور اے شر کے متلاشی! باز آ جا“ اور اللہ تعالیٰ جہنم سے بندوں کو آزاد کرتا ہے اور یہ کام ہر رات ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جہنم سے آزادیاں دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ ہم یہود و نصاریٰ کی رسومات اور ہندو تہذیب و کلچر کی آبیاری میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل بالخصوص بازاروں کی زینت بنی ہوتی ہے، نوجوان بالغ لڑکیاں زرق برق لباس، سامان میک اپ سے آراستہ ہو کر اختلاط مرد و زن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوت گناہ کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں اور اسلامی لباس اور دینی حجاب کو بالائے طاق رکھ کر فحاشی و عریانی، روشن خیالی و اعتدال پسندی، رواداری و آزادی کے خوشنما اور خوش فہم نعروں کی مصداق بنتی ہیں اور عید کارڈ جیسی رسومات کو پروان چڑھانے کے لیے حیا باختہ اور ایمان سوز کارڈوں کو خرید رہی ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت میں عیسائیوں کی رسم ہے جس کا اسلام کے نام لیوا بھی شکار ہو چکے ہیں۔ ایک عیسائی پادری ایس کے داس ان کارڈوں کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہے: ”کرسمس کارڈ کے سلسلے میں بہت ساری روایات ہیں، ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ پانچ سو سال قبل کرسمس کارڈ بھیجنے کی رسم نے جنم لیا، اس سے قبل نئے سال کی آمد پر کارڈ بھیجے جاتے تھے۔ سب سے پہلے ایک ایسا کارڈ 1446ء میں چھپا، جس میں عیسی علیہ السلام کو ایک چھوٹے بچے کے روپ میں بادلوں میں دکھایا گیا۔ یہ کارڈ آج بھی برطانیہ کے شہرہ آفاق عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔“
(مجلہ الدعوۃ فروری 1995ءص7)
معلوم ہوا کہ عید کارڈ اصل عیسائیوں کے کرسمس کارڈ کی نقل ہی ہے، جسے عیسائیوں نے رواج دیا ہے، اسلام ہمیں بڑی پاکیزہ تعلیمات دیتا ہے اور یہود و نصاریٰ کی نقالی سے منع کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾
(الحديد: 16)
”کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے دہل جائیں اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنھیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سارے فاسق ہیں۔“
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ”ولا يكونوا“ کے بارے میں فرماتے ہیں:
نهي مطلق عن مشابهتهم وهو خاص أيضا فى النهي عن مشابهتهم فى قسوة قلوبهم وقسوة القلوب من ثمرات المعاصي
(اجلباب المرأة المسلمة ص 163)
”یہ یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنے میں مطلق طور پر نہی وممانعت ہے اور اسی طرح بالخصوص قساوت قلبی میں ان کے ساتھ مشابہت کی بھی نہی ہے اور قساوت قلبی معاصی اور گناہوں کے ثمرات میں سے ہے۔“
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولهذا نهى الله المؤمنين أن يتشبهوا بهم فى شيء من الأمور الأصلية والعظيمة
”اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے ساتھ اصول و فروع میں مشابہت سے منع کر دیا ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تشبه بقوم فهو منهم
(ابو داود کتاب اللباس باب في لبس الشهرة ح 4031، مسند احمد 50/2 ، 92، ح : 5114، 5115، 5667)
”جو کسی قوم کی نقالی اختیار کرے گا وہ انھی میں سے ہوگا۔ “
اس مفہوم کی بہت ساری صحیح احادیث موجود ہیں جن میں یہود و نصاریٰ کے طور طریقوں سے روکا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ”جلباب المرأة المسلمة“ اور ہمارے فاضل بھائی اور دوست حافظ محمد ابراہیم سلفی شہید (ان شاء اللہ) کی مرتب کردہ کتاب ” یہود و نصاریٰ سے مخالفت کیوں اور کیسے؟“ بھی بڑی راہنمائی کرتی ہیں، مؤخر الذکر کی تخریج انتہائی اختصار کے ساتھ راقم نے کی تھی اور اب وہ مطبوع ہے۔ اللہ تعالیٰ ان علماء کے لیے دینی کتب کو صدقہ جاریہ بنا دے اور جنت الفردوس میں مقام رفیع نصیب فرمائے۔ (آمین!)
عید کارڈ ایک تو کرسمس کارڈ کی نقل و مشابہت کی بنا پر درست نہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عوام الناس کی اکثریت جو کارڈ خریدتی اور بیچتی ہے اس میں کئی ایک قباحتیں ہیں، کئی کارڈوں پر پاکستانی، ہندوستانی اور یورپی اداکاروں اور گلوکاروں کی نیم عریاں تصاویر ہوتی ہیں جو انسان کے اندر ہیجانی کیفیت پیدا کرتی ہیں اور انتہائی فخش اور گھناؤنا منظر پیش کرتی ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی آوارگی کو فروغ دیتی ہیں۔ بعض لوگوں نے کارڈوں پر بیت اللہ شریف، روضہ مبارکہ وغیرہ کی تصاویر بنا کر اس کارڈ کو اسلامی بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے جمہوریت اور سوشلزم کے ساتھ اسلامی کا سابقہ لگا کر انھیں مسلمان کیا جاتا ہے۔ بہر کیف یہ خالص اغیار رسم ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ، سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلاف رحمہ اللہ کی مبارک زندگیوں میں بالکل مفقود ہے۔ اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہم اس کی توضیح کر کے جاتے، جن پر دین اسلام کی تکمیل ہوئی ہے۔ کتاب وسنت کی نصوص میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہمیں ان اغیار اور کفار قوموں کے رسوم و رواج سے بچ کر مسنون اور پاکیزہ زندگی بسر کرنی چاہیے اور اللہ کی عبادت اور اس کے احکامات کی اطاعت اور فرامین کی بجا آوری کر کے خوش ہونا چاہیے اور ان ایام ہائے برکات و انوار سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور کوئی لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ روز قیامت حسرت و ندامت اور پچھتاوے کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوگا اور معصیت و نافرمانی کے باعث اعمال کے برباد ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اللہ امت مسلمہ کو صحیح نہج پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور اسے جادہ مستقیم اور راہ راست پر گامزن کرے اور صراط مستقیم پر ثبات و دوام اور پائیداری نصیب کر کے ہر طرح کی گمراہیوں، ضلالتوں اور رسومات و بدعات اور خرافات سے محفوظ فرمائے۔ (آمین!)