مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا عورت کے فون اٹھانے پر سلام کرنا چاہیے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

اگر کہیں فون کیا جائے اور کوئی عورت فون اٹھائے تو سلام کیا جائے یا نہیں؟ اگر مخاطب عورت سلام کہے تو کیا جواب دیا جائے ؟ اگر نہیں تو کیا کیا جائے ؟

جواب :

اسلامی شریعت میں ہر مسلمان کو سلام کو عام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم خواتین کے پاس سے گزرتے تو انھیں بھی سلام کہتے، جیسا کہ جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم مر على نسوة فسلم عليهن
(مسند احمد 1/357، ح : 19426)
”نبی اکرم صلى الله عليه وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انھیں سلام کہا۔“
یہ روایت شواہد کی بنا پر حسن ہے۔ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
مر علينا النبى صلى الله عليه وسلم فى نسوة فسلم علينا
(ابوداؤد، کتاب الأدب، باب في السلام على النساء 5204، ترمذی 2697، الأدب المفرد)
”نبی اکرم صلى الله عليه وسلم ہم عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں سلام کیا۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو سلام کہنا شرعاً جائز اور درست ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ازواج مطہرات کو سلام کہتے اور وہ ان کے سلام کا جواب دیتی تھیں، البتہ اگر کسی موقع پر فتنہ کا خدشہ ہو تو سلام سے اجتناب کرلیں اور عورت کو بھی جواب دیتے وقت سنجیدگی و متانت سے جواب دینا چاہیے، لہجہ دار اور فتنہ انگیز آواز سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی آواز کی ممانعت پر نص قطعی قرآن حکیم میں موجود ہے۔ لہذا جب دوست احباب میں سے کسی کو فون کیا جائے اور کوئی خاتون خانہ فون اٹھا لے تو اسے سلام کہیں اور اگر وہ سلام کہہ دے تو اسے جواب دیں، تاہم مطلب و حاجت کی بات کے بغیر اس سے کلام نہ کریں تا کہ کوئی فتنہ جنم نہ لے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔