کیا عورت کو گھر میں بھی دوپٹا اوڑھنا چاہیے؟ حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

کیا خواتین کو اپنے گھروں میں بھی دوپتا اوڑھنا چاہیے؟

جواب:

مسلمان عورت کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا فیصلہ ہے کہ وہ پردے کے اندر اپنی چاہیے، اسے کھلے عام پھرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان
”عورت پردہ ہے، جب یہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب الرضاع باب استشراف الشيطان المرأة إذا خرجت 1173، صحیح ابن خزیمہ 93/3 ح: 1686،1685 صحیح ابن حبان 5599،5598 علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، إرواء الغلیل 303/1 ح: 273)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت ایسی چیز ہے جو چھپانے کے لائق ہے، اس لیے عورت کو بذات خود پردہ قرار دے دیا، لہٰذا مسلمان خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے سارے وجود کو ڈھانپ کر رکھیں، سوائے چہرے اور ہاتھوں کے، کیونکہ گھر میں کام کاج کے لیے انھیں کھلا رکھنا ایک ضرورت ہے اور یہی افضل ہے، لیکن اگر گھر کی چار دیواری میں سر سے کپڑا اتر جائے تو گناہ نہیں ہے، البتہ اجنبی مردوں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کا کھلا رکھنا بھی درست نہیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے