مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا عورت کو احتلام ہوتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا عورت کو احتلام ہوتا ہے؟

جواب:

مردوں کی طرح عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے۔ اگر کسی عورت کو احتلام ہو، تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔
❀ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
جاءت أم سليم إلى النبى صلى الله عليه وسلم فسألته عن المرأة ترى فى المنام ما يرى الرجل؟ فقال: إذا رأت الماء فلتغتسل، قالت: فقلت: فضحت النساء وهل تحتلم المرأة؟ فقال النبى صلى الله عليه وسلم: تربت يمينك فبما يشبهها ولدها إذا
ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس عورت کے متعلق پوچھا، جو خواب میں مرد کی طرح (منی) دیکھتی ہے، فرمایا: اگر پانی (منی) دیکھے، تو غسل کرے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا، آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا، بھلا کبھی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کا ہاتھ خاک آلود ہو، تو پھر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے؟
(صحيح البخاري: 282، صحیح مسلم: 313، المنتقى لابن الجارود: 88)
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
الإجماع قائم على أن النساء إذا احتلمن ورأين المني عليهن الغسل، وحكمهن حكم الرجال فى ذلك
اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ عورتوں کو احتلام ہو اور وہ (اپنے کپڑوں یا جسم پر) منی دیکھیں، تو ان پر غسل واجب ہے، اس بارے میں ان کا حکم بھی وہی ہے، جو مردوں کا حکم ہے۔
(التوضيح: 640/4)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔