کیا عمل کو بھی مہر بنایا جا سکتا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا صرف مالیت والی چیز کومہر مقرر کیا جاسکتا ہے یا کسی فعل کو بھی مہر مقرر کیا جاسکتا ہے؟

جواب:

اگر فریقین کسی کام کو حق مہر مقرر کرنے پر رضامند ہوں، تو اسے بھی مہر مقرر کیا جاسکتا ہے۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعتق صفية، وجعل عنقها صداقها .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا حق مہر بنا دیا۔
(صحيح البخاري : 5086 ، صحیح مسلم : 1365 )
❀ سید نا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ابوطلحہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام دیا، تو انہوں نے فرمایا : ابوطلحہ! آپ جیسے شخص کو رد نہیں کیا جاتا، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں۔ میرے لیے آپ سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر آپ مسلمان ہو جائیں، تو یہی میرا حق مہر ہو گا، اس سے زائد میں کچھ نہیں مانگوں گی ۔ ابوطلحہ مسلمان ہو گئے ، یوں یہی ( ان کا مسلمان ہونا ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا حق مہر بن گیا ۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے کسی عورت کا اتنا قیمتی مہر نہیں سنا، جتنا قیمتی مہرام سلیم رضی اللہ عنہا کا تھا، یعنی ان کو حق مہر میں اسلام ملا تھا۔ سید نا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیے، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر بچہ پیدا ہوا۔
(سنن النسائی : 3341، وسنده حسن)
اس روایت کو امام ابن حبان (7187) اور حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (المختارہ : 426) نے صحیح کہا ہے ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
(فتح الباري : 115/9)
❀ سید نا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک عورت کہنی لگی : اللہ کے رسول ! میں خود کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، میرے متعلق اپنے خیال کا اظہار کیجیے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : ان سے میری شادی کروا دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جا کر کچھ تلاش کر لائیے ، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔ راوی کہتے ہیں : وہ گیا اور نہ تو لوہے کی انگوٹھی لایا اور نہ ہی کوئی اور چیز لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ کو قرآن کی کوئی سورت یاد ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ان سورتوں کے عوض جو اسے یاد تھیں ،اس کی شادی کر دی ۔
(صحيح البخاري : 5149 ، صحیح مسلم : 1425)
ثابت ہوا کہ کسی کام اور عمل کو بھی حق مہر بنایا جا سکتا ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے