مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا عمر میں چھوٹے سے علم حاصل کیا جا سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا عمر میں چھوٹے سے علم حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

علم ان سے حاصل کیا جائے، جو علم والے ہیں، خواہ وہ عمر اور مرتبہ میں کم ہوں۔ یہی علم وحی کے حصول کا معتبر ذریعہ ہے، اسی میں علم کی حفاظت و صیانت ہے۔ ہمیشہ سے ہر دور کے مسلمان علما سے علم حاصل کرتے آئے ہیں، وہ چھوٹے بڑے اور کم تر و برتر میں فرق نہیں کرتے تھے۔
نااہل اور ناخلف لوگوں سے علم حاصل کرنا دراصل علم کو ضائع کرنا ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كنت أقرئ رجالا من المهاجرين، منهم عبد الرحمن بن عوف
میں مہاجرین کے لوگوں کو پڑھاتا تھا، جن میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔
(صحيح البخاري: 6830، صحیح مسلم: 1691)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
فيه تنبيه على أخذ العلم من أهله وإن صغرت أسنانهم أو قلت أقدارهم
اس حدیث میں تنبیہ ہے کہ علم انہی سے حاصل کرنا چاہیے، جو اس کے اہل ہیں، خواہ ان کی عمر چھوٹی ہو اور ان کا مرتبہ کم ہو۔
(كشف المشكل: 1/63)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔