کیا عشاء سے پہلے چار رکعت ثابت ہیں؟ محدثین کے اقوال اور روایات کا تحقیقی مطالعہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب غیر مسنون نفلی نمازیں سے ماخوذ ہے۔

نماز عشاء سے پہلے چار سنتیں

نماز عشاء سے پہلے چار رکعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں۔
❀ مفتی تقی عثمانی دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
البتہ اربع قبل العشاء کے ثبوت میں کوئی حدیث معروف کتب حدیث میں نہیں ملتی ، تمام فقہائے حنفیہ أَرْبَعَ قَبْلَ الْعِشَاءِ کوسنن غیر رواتب میں بالالتزام ذکر کرتے ہیں، کبیری شرح منیۃ المصلی میں دلیل کے طور پر یہ حدیث ذکر کی ہے کہ : من صلى قبل العشاء أربعا يتهجد من ليلته الخ اور سنن سعید بن منصور کا حوالہ دیا ہے، لیکن علامہ بنوری نے معارف السنن (115/4) میں ثابت کیا ہے کہ یہاں صاحب کبیری کو تسامح ہوا ہے، اصل حدیث یوں ہے کہ من صلى قبل الظهر أربعا كأنما تهجد من ليلته لہذا اس سے استدلال درست نہیں۔
(درس ترمذي : 196/2-197)
امام طبرانی رحمہ اللہ نے الاوسط (254/6، ح:6332 ) میں سعید بن منصور کی سند سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں:
من صلى قبل الظهر
سند ضعیف ہے۔
➊ نابض بن سالم باہلی کے حالات زندگی نہیں ملے۔
➋ ربیع بن لوط کا سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں ۔
الدارية لابن حجر میں غلطی سے من صلى قبل العشاء چھپ گیا ہے، جس سے بعض لوگوں کو غلطی لگی۔
یہ روایت: من صلى قبل الهاجرة کے الفاظ سے بھی آئی ہے۔
(مسند الروياني : 413 ، شعب الإيمان للبيهقي : 8935)
سند ضعیف ہے ، منصور بن عبد اللہ عبد الرحمن کی توثیق نہیں مل سکی ۔
علامہ انورشاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں:
في الأربع قبله ضعيف
عشاء سے پہلے چار رکعت کے بارے میں روایت ضعیف ہے۔
(العرف الشذي : 101/1)
جب اس روایت کا سرے سے وجود ہی نہیں تو اس کے ضعیف ہونے کا کیا معنی؟
❀ علامہ یوسف بنوری دیوبندی صاحب (1397ھ ) لکھتے ہیں:
علامہ انور کا شمیری کے اس قول : عشا سے پہلے اور بعد میں چار رکعت پڑھنی چاہئیں۔ سے استدلال کیا گیا ہے، میں نے سوچا کہ شاید حافظ قاسم بن قطلوبغا نے اپنی کتاب الاختیار میں عشا سے پہلے چار رکعت کے ثبوت میں حدیث پیش کی ہو، چنانچہ میں نے محدث شیخ ابو الوفا افغانی رئیس دائرہ احیاء المعارف نعمانیہ حیدر آباد دکن کو خط لکھا، ان کے پاس اس کتاب کے مخطوطہ کی فوٹو کاپی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اس مقام سے کتاب کا مطالعہ کریں، اس مقام کی طرف رجوع کرنے کے بعد انہوں نے کہا : ہم نے کتاب میں اس مقام کو بیاض (خالی) پایا ہے، اس کا مطلب یہ تھا کہ حافظ قاسم بن قطلو بغا جیسے متبحر اور ماہر عالم اس مسئلہ میں کوئی حدیث نہیں جان سکے، یہ وہ شخصیت ہیں، جنہوں نے حافظ جمال زیلعی کی تالیف تخریج احادیث الہدایۃ پر بطور استدراک ایک کتاب لکھی ہے، جس کا نام انہوں نے منية الألمعي فيما فات من تخريج أحاديث الهداية للزيلعي رکھا ہے، اس (علمی مقام) کے باوجود وہ اس مسئلہ پر کسی حدیث پر آگاہی حاصل نہیں کر سکے۔ دوسری طرف حنفیوں کے کتابیں عشا سے پہلے چار رکعات کو مسنون کہنے میں ہمنوا ہیں ، ہو سکتا ہے احناف کی دلیل ہمارے ائمہ کرام کی کتب مخطوطہ یا ضائع شدہ کتابوں میں ہو۔ واللہ اعلم ۔
(معارف السنن : 115/4-116)
علم کا تقاضا یہ تھا کہ ایک مسئلہ میں حدیث رسول اور آثار صحابہ نہیں ملے، تو دیانت سے کہ دیا جاتا کہ قبل از عشا چار رکعات کو مسنون کہنا بے دلیل ہے، مگر یہاں جو باور کرایا گیا، وہ غیر مناسب ہے۔

فوائد مہمہ:

فائدہ نمبر 1 :

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے:
كانوا يستحبون أربع ركعات قبل العشاء الآخرة
صحابہ و تابعین عشا سے پہلے چار رکعت مستحب سمجھتے تھے۔
(مختصر قيام الليل لمحمد بن نصر المروزي، ص58)
یہ قول بے سند ہونے کی وجہ سے نا قابل احتجاج ہے۔

فائدہ نمبر 2 :

نماز عشاء سے پہلے تحیۃ المسجد اور تحیۃ الوضو کی دو رکعت ادا کی جاسکتی ہیں۔