مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا عدتِ وفات والی عورت خرچے کی حق دار ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

وفات شوہر کی عدت کے دوران کیا عورت نان و نفقہ کی حق دار ہوگی؟

جواب:

عدت وفات شوہر والی عورت اگر حاملہ ہے، تو وہ نان و نفقہ کی حق دار ہوگی، جس کی ادائیگی شوہر کی جائیداد سے کی جائے گی۔ اگر عورت حاملہ نہیں، تو اس کا خرچہ کسی کے ذمہ نہیں۔
❀ فرمان الہی ہے:
﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
(الطلاق: 6)
”عورتیں حاملہ ہوں، تو وضع حمل تک ان پر خرچ کریں۔“
❀ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو تین طلاقیں ہوئیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نفقة لك إلا أن تكوني حاملا.
”آپ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے، الا یہ کہ آپ حاملہ ہوں۔“
(سنن أبي داود: 2290، وسنده صحيح)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔