مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کی جائے گی؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کی جائے گی؟

جواب:

کبیرہ گناہوں کی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کرنا ضروری ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره وعلانيته وسره
اے اللہ! میری ساری لغزشوں سے درگزر فرما، چھوٹی ہوں یا بڑی، پہلی ہوں یا آخری، ظاہر ہوں یا مخفی۔
(صحیح مسلم: 483)
❀ علامہ سبکی رحمہ اللہ (771ھ) فرماتے ہیں:
إجماع الأمة على وجوب التوبة من الصغائر كالكبائر
امت کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہوں کی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کرنا واجب ہے۔
(طبقات الشافعية: 98/7)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔