مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا صدقہ میت کو فائدہ دیتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا صدقہ میت کو فائدہ دیتا ہے؟

جواب:

اہل سنت کے نزدیک میت کی طرف سے صدقہ کرنا بالا جماع جائز ہے۔ صدقہ میت کو فائدہ دیتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة؛ إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له
جب انسان فوت ہو جاتا ہے، تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، مگر تین اعمال کہ ان کا اجر ملتا رہتا ہے: صدقہ جاریہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا رہے، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
(صحیح مسلم: 1631)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
فيه أن الدعاء يصل ثوابه إلى الميت وكذلك الصدقة وهما مجمع عليهما
یہ حدیث دلیل ہے کہ دعا کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اسی طرح صدقہ کا اجر بھی پہنچتا ہے، ان دونوں پر اجماع ہے۔
(شرح النووي: 11/85)
❀ نیز فرماتے ہیں:
إن الصدقة تصل إلى الميت وينتفع بها بلا خلاف بين المسلمين وهذا هو الصواب
صدقہ کا اجر میت کو پہنچتا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، اس بارے میں مسلمانوں کا کوئی اختلاف نہیں اور یہی درست بات ہے۔
(شرح النووي: 1/89)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
لا نزاع بين علماء السنة والجماعة فى وصول ثواب العبادات المالية، كالصدقة والعتق، كما يصل إليه أيضا الدعاء والاستغفار، والصلاة عليه صلاة الجنازة، والدعاء عند قبره
اس میں علمائے اہل سنت کا کوئی اختلاف نہیں کہ مالی عبادات مثلاً صدقہ اور غلام آزاد کرنا وغیرہ کا ثواب میت تک پہنچتا ہے، جیسا کہ میت کو دعا، استغفار، نماز جنازہ اور قبر پر دعا کا ثواب پہنچتا ہے۔
(الفتاوى الكبرى: 3/63)
علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
اتفق أهل السنة أن الأموات ينتفعون من سعي الأحياء بأمرين؛ أحدهما: ما تسبب إليه الميت فى حياته، والثاني: دعاء المسلمين واستغفارهم له، والصدقة
اہل سنت کا اتفاق ہے کہ فوت شدگان کو زندوں کے اعمال دو طرح فائدہ پہنچاتے ہیں: جس کا سبب خود میت اپنی زندگی میں بنا ہو، اور مسلمانوں کا اس کے لیے دعا و استغفار کرنا اور صدقہ کرنا۔
(شرح الطحاوية، ص 452)
❀ علامہ ابوالبقاء دمیری رحمہ اللہ (808ھ) فرماتے ہیں:
الصدقة عنه؛ فإنها تنفعه بإجماع الفقهاء، ولا اعتبار بإنكار بعض المتكلمين لها
میت کی طرف سے صدقہ کرنا اسے فائدہ دیتا ہے، اس پر فقہا کا اجماع ہے، بعض متکلمین نے جو اس کا انکار کیا ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
(النجم الوهاج: 6/310)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔