مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا صحابی کی تفسیر معتبر ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا صحابی کی تفسیر معتبر ہے؟

جواب:

اگر صحابی رضی اللہ عنہ کسی آیت کا معنی و مفہوم بیان کرے یا تفسیر کرے، تو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہوگی، کیونکہ وہ نزول قرآن کے شاہد ہیں۔ انہوں نے قرآن کے معانی و مطالب براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے ہیں۔ انہیں قرآن کے فہم میں کوئی اشکال ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیتے تھے۔ لہذا ہر وہ تفسیر جو صحابی رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے خلاف ہو، رد کر دی جائے گی۔
❀ امام حاکم رحمہ اللہ (405ھ) فرماتے ہیں:
ليعلم طالب هذا العلم أن تفسير الصحابي الذى شهد الوحي والتنزيل عند الشيخين حديث مسند
تفسیر کے طالب علم کو جان لینا چاہیے کہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ، جو وحی اور قرآن کے نزول کا شاہد ہے، اس کی تفسیر شیخین (بخاری و مسلم) کے نزدیک مرفوع حدیث کی حیثیت رکھتی ہے۔
(المستدرك: 259/2)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
تفاسير الصحابة عند جمهور الأئمة المتقدمين على ما نقله الحاكم أبو عبد الله محمولة على الرفع وبعض المحققين حمل ذلك على ما يتعلق بأسباب النزول وما أشبهها وهو واضح والله أعلم
امام ابو عبد اللہ حاکم رحمہ اللہ کی نقل کے مطابق جمہور ائمہ متقدمین کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفاسیر مرفوع روایت کی طرح ہیں۔ بعض محققین کے مطابق وہ تفاسیر مرفوع کے قائم مقام ہیں، جن کا تعلق اسباب نزول وغیرہ کے ساتھ ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے، واللہ اعلم۔
(تغليق التعليق: 25/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔