مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا شوہر بیوی سے ذاتی کام کروا سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا شوہر اپنے ذاتی کام کے لیے بیوی سے خدمت لے سکتا ہے؟

جواب:

شوہر حسب ضرورت اور حسب استطاعت بیوی سے اپنی ذاتی خدمت لے سکتا ہے، بشرطیکہ بیوی رضامند ہو، کتاب وسنت کے عمومی دلائل سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان يخرج رأسه إلي، وهو معتكف، فأغسله، وأنا حائض
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحالت اعتکاف (مسجد سے) میری طرف اپنا سر مبارک نکالتے، تو میں بحالت حیض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی۔
(صحيح البخاري: 299، صحیح مسلم: 297)
❀ اس حدیث کے تحت حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
فيه جواز استخدام الزوجة فى الغسل والطبخ والخبز وغيرها برضاها وعلى هذا تظاهرت دلائل السنة وعمل السلف وإجماع الأمة
یہ حدیث دلیل ہے کہ بیوی کی رضامندی کے ساتھ اس سے سر وغیرہ دھونے، کھانا بنانے، روٹی پکانے اور دیگر امور میں خدمت لی جا سکتی ہے، احادیث کے دلائل، سلف کا عمل اور امت کا اجماع اس پر بہت واضح ہے۔
(شرح النووي: 208/3)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔