مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا شریعت میں کوئی باطنی علم بھی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا شریعت میں کوئی باطنی علم بھی ہے؟

جواب:

شریعت میں باطنی علم کا کوئی وجود نہیں۔ بعض صوفیا کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو طرح کا علم دیا گیا تھا: ایک علم ظاہر اور دوسرا علم باطن۔ علم ظاہر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت تک پہنچا دیا، علم باطن کو لوگوں تک نہیں پہنچایا۔
یہ غلو پر مبنی گمراہ کن نظریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی علم دیا، بذریعہ وحی عطا کیا اور اسے تبلیغ کرنے کا حکم بھی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کے مطابق شریعت کی ساری معلومات امت تک پہنچا دیں، کوئی بات چھپائی نہیں۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ
(سورہ المائدہ: 67)
اے رسول! آپ کے رب کی طرف سے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے، اس کی تبلیغ کر دیجئے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا، تو آپ نے رسالت پہنچانے کا حق ادا نہ کیا۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روز خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
أنتم تسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت، فقال بإصبعه السبابة يرفعها إلى السماء وينكتها إلى الناس: اللهم اشهد، اللهم اشهد، اللهم اشهد، ثلاث مرات
جب آپ سے میرے متعلق پوچھا جائے، تو کیا جواب دیں گے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے دین پہنچا دیا، اللہ کی اس امانت کو بخوبی ادا کیا اور ہماری خیر خواہی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی، لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ فرمایا: اللہ! گواہ ہو جا، اللہ! گواہ ہو جا، اللہ! گواہ ہو جا۔
(صحیح مسلم: 1218)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
لو لم يكن قد عرف المسلمون وتيقنوا ما أرسل به وحصل لهم منه العلم اليقين لم يكن قد حصل منه البلاغ المبين ولما رفع الله عنه اللوم ولما شهد له أعقل الأمة بأنه قد بلغ وبين، وغاية ما عند النفاة أنه بلغهم ألفاظا لا تفيدهم علما ولا يقينا وأحالهم فى طلب العلم واليقين على عقولهم ونظرهم وأبحائهم لا على ما أوحي إليه وهذا معلوم البطلان بالضرورة
اگر صحابہ نے علم یقینی کی حد تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین حاصل نہ کیا ہوتا، تو بلاغ مبین کا حصول ممکن ہی نہ تھا، نہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوم کو دور کرتا، نہ ہی امت کا سب سے زیادہ بالغ العقل طبقہ (صحابہ رضی اللہ عنہم) اس بات کی گواہی دیتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پہنچا دیا ہے۔ جو لوگ اللہ کو عرش پر نہیں مانتے، ان کی باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایسے الفاظ میں تبلیغ کی، جو انہیں علم کا فائدہ نہیں دے سکے، یقین ان سے حاصل نہیں ہو پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو علم اور یقین کے حصول کے لیے وحی الٰہی کے بجائے اپنی عقلوں، نظریات اور مباحثوں پر اعتماد کرنے کو کہا۔ حالانکہ خاص و عام کو معلوم ہے کہ یہ بات باطل محض ہے۔
(الصواعق المرسلة: 733/2)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
قد شهدت له أمته ببلاغ الرسالة وأداء الأمانة، واستنطقهم بذلك فى أعظم المحافل، فى خطبته يوم حجة الوداع، وقد كان هناك من الصحابة نحو من أربعين ألفا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی امت نے گواہی دے دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کو پہنچا دیا ہے اور امانت کو ادا کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت بڑی مجلس خطبہ حجۃ الوداع میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں وضاحت مانگی، وہاں کم و بیش چالیس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔
(تفسیر ابن کثیر: 151/3)
❀ علامہ مقریزی رحمہ اللہ (845ھ) فرماتے ہیں:
الحق الذى لا ريب فيه أن دين الله تعالى ظاهر لا باطن فيه، وجوهر لا سر تحته، وهو كله لازم كل أحد لا مسامحة فيه، ولم يكتم رسول الله صلى الله عليه وسلم من الشريعة ولا كلمة، ولا أطلع أخص الناس به من زوجة أو ولد عم على شيء من الشريعة، كتمه عن الأحمر والأسود ورعاة الغنم، ولا كان عنده صلى الله عليه وسلم سر ولا رمز ولا باطن غير ما دعا الناس كلهم إليه، ولو كتم شيئا لما بلغ كما أمر، ومن قال هذا فهو كافر بإجماع الأمة
حق اور بلا ریب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین ظاہر ہے، اس میں کچھ باطن نہیں، واضح اور روشن ہے، اس میں کچھ پوشیدہ نہیں۔ یہ سب کے لیے لازمی ہے، کسی کے لیے استثنا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ بلکہ کوئی کلمہ تک نہیں چھپایا۔ نہ ایسا کیا کہ شریعت کے کسی مسئلہ کی اطلاع کسی خاص مثلاً بیوی یا چچا زاد کو دی ہو اور کسی سرخ، سیاہ یا چرواہے سے وہ مسئلہ چھپا لیا ہو۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی راز، اشارہ یا علم باطن نہیں تھا، صرف وہی علم تھا، جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کو دعوت دی۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات چھپا لیتے، تو یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح رسالت کی تبلیغ کرنے والے نہ ہوتے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا۔ جس نے ایسی بات کہی، تو اس کے کافر ہونے پر امت کا اجماع ہے۔
(الخطط: 313/3)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔