کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگانے والے کا فر ہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگانے والے کا فر ہیں؟

جواب:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگانے والے کافر ہیں، کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے ثابت ہے۔
❀ عباسی علما کا اجماعی عقیدہ ہے:
من سب سيدتنا عائشة رضي الله عنها فلا حظ له فى الإسلام .
جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہا، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔
(المُنْتَظَم في تاريخ المُلُوك والأمم لابن الجوزي : 281/15 ، وسنده صحيح)
❀ علامہ ابو اسحاق شیرازی رحمہ اللہ (476ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمع المسلمون على عموم آية القذف وإن كانت نزلت فى شأن عائشة رضي الله عنها خاصة .
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ تہمت والی آیت عام ہے، گو کہ خصوصی طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے۔ “
(التبصرة في أصول الفقه، ص 146)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671 ھ ) فرماتے ہیں:
❀ اللہ تعالیٰ کے فرمان :
﴿يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا﴾
(النور: 17)
سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ، کیوں کہ مثلیت تب ہی ہوگی جب کسی کے بارے میں اسی طرح کی بات کی گئی ہو یا وہ ازواج مطہرات کے ہم پلہ ہو۔ کیوں کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت و ناموس اور اہل بیت کے حوالے سے ایذ او تکلیف ہوتی ہے اور یہ کفریہ حرکت ہے۔
(تفسير القرطبي : 205/12)
❀ قاضی ابو یعلی حنبلی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
من قذف عائشة بما برأها الله منه كفر بلا خلاف .
جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہی تہمت لگائی، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے ، تو اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ۔
(الصارم المسلول لابن تيمية، ص 566)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
قد حكى الإجماع على هذا غير واحد وصرح غير واحد من الأئمة بهذا الحكم.
اس پر کئی اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے اور بے شمار ائمہ نے اس حکم کی صراحت بھی کی ہے۔
(الصَّارم المسلول على شاتم الرسول، ص 566 )