وضاحتِ شبہ
مضمون کے اہم نکات
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں گورنروں کو احکامات جاری کیے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیا کریں ۔ پھر یہ بنو امیہ کے حکام میں بطورِ سنت جاری ہو گیا جسے جناب عمر بن عبد العزیز نے اپنے دورِ حکومت میں ختم کیا۔ اس دعوے کے حق میں جن روایات اور تاریخی حوالوں کا سہارا لیا جاتا ہے وہ حسبِ ذیل ہیں:
◄ جناب عمر بن عبد العزیز کے دور سے قبل بنو امیہ کے گورنر حضرت علی پر ’سَبّ‘ کیا کرتے تھے، جب عمر بن عبد العزیز کا زمانہ آیا تو انہوں نے اسے ختم کیا[الطبقات الكبرى لابن سعد : 7/ 382]۔
◄ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدفِ تنقید بناتے[سنن ابن ماجه : 121]، بلکہ اپنے گورنر جناب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے کی تلقین کی[تاريخ الطبري : 5/ 253]۔
◄ جناب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ کوفہ میں ان کی دورِ گورنری میں ان کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم ہوا اور انہوں نے روکا نہیں[سنن أبي داود : 4650]، بلکہ انہوں نے ایسے خطباء مقرر کر رکھے تھے جو حضرت علی پر سب و شتم کرتے تھے[سنن أبي داود : 4648]۔
◄ جناب مروان بن حکم جو مدینہ میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ گورنر تھے، وہ ہر جمعے کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ’سَبّ‘ کرتے تھے[العلل و معرفة الرجال للإمام أحمد : 3/ 176]۔
◄ ام المؤمنین سیدہ امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے کوفہ کے ایک شخص ابو عبد اللہ الجدلی سے کہا: کیا تمہارے یہاں بر سرِ منبر اللہ کے نبی پر ’سَبّ‘ کیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ اس پر امِّ سلمہ نے کہا: کیا علی اور اس کے محبت کرنے والوں پر ’سَبّ‘ نہیں کیا جاتا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے علی پر ’سَبّ‘ کیا اس نے مجھ پر ’سَبّ‘ کیا[مسند أحمد : 26748 ، مسند أبي يعلى : 7013]۔
جوابِ شبہ
کسی کو برا بھلا کہنا، یا لعن طعن کرنے کی دو صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ اس سے بغض وعناد اور ذاتی دشمنی یا شدّتِ غضب کی بنا پر کیا جائے، دوسری یہ کہ کسی تأویل، غلط فہمی یا اجتہادی غلطی کی بنا پر کیا جائے۔ پہلی صورت میں ایسا کرنا فسق یا گناہ شمار ہوتا ہے[صحيح البخاري : 48 ، صحيح مسلم : 64]، جبکہ دوسری صورت میں ایسا کرنے والے کو معذور سمجھا جاتا ہے۔
سابقہ اصول صرف برا بھلا کہنے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر وہ گناہ جو کسی تاویل کی بنا پر کیا جائے، شریعت اس پر مؤاخذہ نہیں کرتی بلکہ اسے معذور قرار دیتی ہے جس کی بہت سی مثالیں شریعت میں موجود ہیں [أعلام الموقعين لابن القيم : 4/ 534]۔ لہٰذا تاویل کی بنا پر کسی کو گالی دینا تو بہت ہلکی بات ہےاگر وہ اسے قتل بھی کردے تو بھی بطورِ قصاص اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اُس شخص کو قتل کردیا تھا جس نے کلمہ پڑھ لیا تھا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لگا کہ اس نے تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے [صحيح البخاري : 4269 ، صحيح مسلم : 96]، اس کے باوجود سیدنا اسامہ سے اس قتل کا قصاص نہیں لیا گیا کیونکہ وہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔ امام ابنِ تیمیہ فرماتے ہیں:اور اس کے باوجود نبیﷺ نے انہیں قتل کیا نہ قصاص، دیت یا کفارہ کے ذریعہ مقتول کو کوئی عوض دیا، وہ اس لیے کیونکہ قاتل متأول تھا۔[منهاج السنة النبوية لابن تيمية : 4/ 453 – 454]
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مابین ہونے والے اختلافات اور لڑائیاں جن میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین شامل ہیں، اس بارے میں اہلِ سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ اپنی زبانوں کو خاموش رکھتے ہیں اور اس میں دخل اندازی کرنے سے پرہیز کرتے ہیں [عقيدة السلف وأصحاب الحديث للصابوني : 283] اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ لڑائیاں اور اختلافات اجتہاد کی بنیاد پر تھیں نہ کہ ذاتی بغض وعناد کی بنا پر [مجموع الفتاوى لابن تيمية : 3/ 155 ، 4/ 468]،اور اجتہاد میں اگر انسان غلطی پر بھی ہو تو وہ اجر سے محروم نہیں رہتا [صحيح البخاري : 7352 ، صحيح مسلم : 1716] اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام سے مغفرت اورجنت کا وعدہ کر رکھا ہے [سورة الحديد : 10]۔
اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ لڑائیاں اجتہادی غلطی کی بنا پر نہیں بلکہ ذاتی رنجشوں کا نتیجہ تھیں تب بھی یہ زیادہ سے زیادہ گناہ کا موجب ہوتا ہے اور اہلِ سنت صحابہ کو گناہوں سے معصوم قرار نہیں دیتے لیکن ساتھ ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ وہ اس امت کے سب سے بہترین لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کےلیے منتخب فرمایا۔ لہٰذا صحابہ کرام کے اگر گناہ ہوں بھی تو انہیں مغفرت اور بخشش کے اسباب اس قدر مہیا اور ان کی نیکیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے گناہ ان کے بحرِ حسنات کے آگے ہیچ ہیں[مجموع الفتاوى لابن تيمية : 3/ 155 ، 4/ 432]۔ لہٰذا صحابہ کرام کی غلطیوں کو موضوعِ بحث بنانا کسی مسلمان کےشایانِ شان نہیں۔سابقہ تمام جوابات اس صورت میں ہیں جب مذکورہ تمام روایات کو درست تسلیم کرلیا جائے حالانکہ حقیقتِ امر یہ ہے کہ ان میں سے بعض روایات درست ہیں اور بعض ضعیف یا جھوٹی ہیں۔ ذیل میں بالترتیب اختصار سے ان روایات پر تبصرہ ملاحظہ ہو:
جناب عمر بن عبد العزیز کے دور سے قبل بنو امیہ کے گورنر حضرت علی پر ’سَبّ‘ کیا کرتے تھے، جب عمر بن عبد العزیز کا زمانہ آیا تو انہوں نے اسے ختم کیا[الطبقات الكبرى لابن سعد : 7/ 382]۔
اس میں ایک راوی لوط بن یحییٰ ابو مخنف قابل اعتماد نہیں ہے [الجرح والتعديل لابن أبى حاتم : 7/ 182]۔
➊ امام ابن معین رحمہ اللہ (233ھ) فرماتے ہیں: "ابو مخنف کی کوئی حیثیت نہیں ہے”۔ (تاريخ ابن معين – رواية الدورى :3/ 285) ۔
➋ امام ابن عدی رحمہ اللہ (365ھ) فرماتے ہیں: ” یہ کٹر شیعہ اور ان کا رپوٹر ہے”(الكامل فى ضعفاء الرجال :7/ 241) ۔
➌ حافظ ذھبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں: "ابو مخنف لوط بن یحیی کوفی رافضی مؤرخ ہے "۔ (تاريخ الإسلام ت بشار :4/ 189).
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدفِ تنقید بناتے[سنن ابن ماجه : 121]، بلکہ اپنے گورنر جناب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے کی تلقین کی[تاريخ الطبري : 5/ 253]۔
اس روایت میں بھی لوط بن یحییٰ متروک راوی ہے۔ جبکہ سنن ابنِ ماجہ (121) والی روایت کی سند میں عبد الرحمٰن بن سابط اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان انقطاع ہے [تاريخ ابن معين رواية الدوري : 3/ 87]۔ اس کا اصل قصہ صحیح مسلم(2404) میں ہے لیکن اس میں یہ ذكر نہیں کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی کو ہدفِ تنقید بنایا ہو۔ جناب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ کوفہ میں ان کی دورِ گورنری میں ان کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب وشتم ہوا اور انہوں نے روکا نہیں[سنن أبي داود : 4650]، بلکہ انہوں نے ایسے خطباء مقرر کر رکھے تھے جو حضرت علی پر سب وشتم کرتے تھے[سنن أبي داود : 4648]۔
اس روایت میں ہلال بن یساف اور عبد اللہ بن ظالم کے درمیان انقطاع ہے [السنن الكبرى للنسائي : 7/ 326 ، العلل للدارقطني : 4/ 412]۔جبکہ سنن ابی داود (4650) والی روایت صحیح ہے لیکن اس سے مذکورہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے کا کہا تھا، البتہ جناب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا اس غلط کام پر خاموش رہنا درست نہ تھا جس پر جناب سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے انہیں تنبیہ کردی تھی۔
جناب مروان بن حکم جو مدینہ میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ گورنر تھے، وہ ہر جمعے کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ’سَبّ‘ کرتے تھے[العلل ومعرفة الرجال للإمام أحمد : 3/ 176]۔
مروان بن حکم سے متعلق روایت کی سند صحیح ہے لیکن یہ ان کا ذاتی فعل تھا جو کسی طور پر درست نہ تھا مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے کا کہاتھا، بلکہ خود اسی روایت میں یہ مذکور ہے کہ جب مروان بن حکم کو معزول کرکے سعید بن العاص کو امیر بنایا گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب وشتم نہیں کرتے تھے۔
ام المؤمنین سیدہ امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے کوفہ کے ایک شخص ابو عبد اللہ الجدلی سے کہا: کیا تمہارے یہاں بر سرِ منبر اللہ کے نبی پر ’سَبّ‘ کیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ اس پر امِّ سلمہ نے کہا: کیا علی اور اس کے محبت کرنے والوں پر ’سَبّ‘ نہیں کیا جاتا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے علی پر ’سَبّ‘ کیا اس نے مجھ پر ’سَبّ‘ کیا[مسند أحمد : 26748 ، مسند أبي يعلى : 7013]۔
سیدہ امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا والی روایت صحیح ہے لیکن اس میں صرف اتنا مذکور ہے کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب وشتم ہوتا تھا، یہ مذکور نہیں کہ کس کے کہنے پر ہوتا تھا اور نہ یہ کہ کون کرتا تھا، لہٰذا اس سے مذکورہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔
کسی سے لڑائی اور قتال کرنا اسے گالی دینے سے بہت بڑھ کر ہے، جب دو گروہوں کے درمیان لڑائیاں اور جنگیں ہو چکی ہوں تو ان کا باہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں غیر معمولی یا حیرانی والی کونسی بات ہے؟ دراصل بنوامیہ کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں قصور وار ہیں کیونکہ انہوں نے امیر المؤمنین کا دفاع نہیں کیا حالانکہ وہ مدینہ میں تھے ، پھر انکے قاتلین بھی سیدنا علی کی صفوں میں موجود تھے اور وہ ان سے قصاص نہیں لے رہے تھے اور نہ ہی انہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر رہے تھے۔ ان تمام باتوں میں اگرچہ بنو امیہ حق بجانب نہیں تھے لیکن یہ سب باتیں ان لڑائیوں یا برابھلا کہنے کی وجوہات بنیں [المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم للقرطبي : 6/ 272]۔
صحابہ کرام کے مابین ہونے والے مشاجرات اور لڑائیاں کسی مسلمان کو اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتیں کہ وہ ان میں سے کسی فریق کے احترام میں کمی کرے یا اسے ہدفِ تنقید بنائے۔ کیونکہ ان کا احترام کرنا اللہ کا حکم ہے جبکہ یہ جنگیں اللہ تعالیٰ کی تقدیرہے جسے واقع ہونا ہی تھا، اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ تقدیر میں لکھی ہوئی چیز شریعت کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کر سکتی، کیونکہ جس نے صحابہ کو برا کہنے سے منع کیا ہے اس کے علم میں تھا کہ ان کے مابین اس قسم کے مشاجرات ہونے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ شریعت نے والدین کو اف تک کہنے سے منع فرمایا حالانکہ شریعت کے علم میں یہ بات تھی کہ والدین خطا سے معصوم نہیں ہوتے، لہٰذا اگر والدین سے غلطی ہو جائے، جو کہ تقدیر ہے، تو اس سے ان کے احترام کا حکم منسوخ نہیں ہو جاتا۔