وضاحتِ شبہ
مضمون کے اہم نکات
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کو برا کہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہی تھیں، میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا۔ (پھر جناب سعد بن ابی وقاص نے سیدنا علی کے تین فضائل ذکر کیے)۔[صحيح مسلم: 2404، سنن الترمذي: 3724]۔اس حدیث کو بنیاد بنا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس بات پر اکساتے تھے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیں۔
جوابِ شبہ
پہلی بات
اس شبہ کا جواب جاننے سے قبل ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ صحابہ سے متعلق مسلمانوں کے چند متفقہ عقائد کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھے:
◄ مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ عدول ہیں، جس کا معنیٰ تمام صحابہ دین داری، اللہ کا تقویٰ اور پاکیزہ سیرت کے بلند ترین درجے پر فائز تھے۔
◄ اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ صحابہ کرام معصوم عن الخطا (غلطیوں سے پاک) نہیں تھے، بلکہ ان سے گناہ صادر ہونے ممکن تھا۔ خطا سے پاک ہونا صرف انبیاء كرام کے ساتھ خاص ہے۔
◄ صحابہ کے تعلق سے مسلمان اپنے دلوں اور زبانوں کو محفوظ رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ہر قسم کے منفی جذبات اور رویے سے اجتناب کرتے ہیں۔
◄ صحابہ کے مابین ہونے والی جنگوں کے تعلق سے مسلمانوں کا موقف ہے کہ وہ اپنی زبانوں کو اس حوالے سے خاموش رکھتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ لڑائیاں اجتہاد کا نتیجہ تھیں اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ سے رضامندی اور بخشش کا اعلان فرما دیا ہے۔[مجموع الفتاوى لابن تيمية: 3/ 152 – 156]
دوسری بات
مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ اگر وہ کسی مومن یا نیک آدمی کے متعلق ایسی بات سنیں جس سے اس کی عزت پر حرف آتا ہو تو اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں اور اس بات کو اچھے معنیٰ پر محمول کریں۔ یہ ادب اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک کے تناظر میں سمجھایا ہے۔ جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر برائی کا الزام لگا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ﴾ [النور : 12]
ترجمہ: جب تم نے اس کو سنا تھا ، تو مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنے لوگوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہ کیا ، اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح بہتان ہے
امام سیوطی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
فِيْهِ تَحْرِيْمُ ظَنِّ السُّوْءِ … وَأَنَّ مَنْ عُرِفَ بِالصَّلَاحِ لَا يُعْدَلُ بِهِ عَنْهُ لِخَبَرٍ مُحْتَمَلٍ.
اس میں برے گمان کی حرمت کا بیان ہے۔۔۔ اور یہ کہ جو شخص نیکی میں معروف ہو اس کے بارے کسی احتمالی خبر کی بنیاد پر اس رائے سے نہیں ہٹا جائے گا۔
[الإكليل في استنباط التنزيل للسيوطي، ص: 190]
جب یہ ادب ایک عام مسلمان کےلیے ہے تو صحابہ کرام جو اس امت کا سب سے نیک طبقہ ہے وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے بارے میں آنے والی ایسی بات جس سے ان کی شان میں کمی آتی ہو اسے اچھے معنیٰ پر محمول کیا جائے۔
تیسری بات
سابقہ بات کی روشنی میں صحابہ کرام کے بارے میں حسنِ ظن کا تقاضا یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کی ایسی توجیہ یا تاویل کی جائے جس سے احترامِ صحابیت کے تقاضے مجروح نہ ہوتے ہوں۔ امام نووی اس حوالے سے عمومی قاعدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قَالَ الْعُلَمَاءُ الْأَحَادِيثُ الْوَارِدَةُ الَّتِي فِي ظَاهِرِهَا دَخَلٌ عَلَى صَحَابِيٍّ يَجِبُ تَأْوِيلُهَا قَالُوا وَلَا يَقَعُ فِي رِوَايَاتِ الثِّقَاتِ إِلَّا مَا يُمْكِنُ تَأْوِيلُهُ.
علماء فرماتے ہیں کہ وہ احادیث جن کے ظاہری الفاظ سے کسی صحابی کی شان میں حرف آتا ہو، اس کی تأویل ضروری ہے اور ثقہ راویوں کی روایات میں ایسی کوئی روایت نہیں جس کی تأویل ممکن نہ ہو۔
[شرح النووي على مسلم: 15/ 175]
چوتھی بات
حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے تو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں بلکہ ان سے صرف سوال کیا ہے کہ وہ انہیں برا کیوں نہیں کہتے؟ سیدنا سعد بن ابی وقاص سے یہ سوال کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ وہ ان صحابہ میں شامل تھے جو سیدنا علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین ہونے والی لڑائیوں سے الگ ہو گئے تھے اور کسی فریق کے ساتھ نہیں تھے۔ دونوں فریق چونکہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے لہٰذا دونوں کی خواہش ہوتی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان کے موقف کی تائید اور مخالف فریق پر رد کریں۔ اسی تناظر میں سیدنا معاویہ نے جناب سعد سے یہ سوال کیا کہ آپ سیدنا علی کے موقف کی تردید کرتے ہوئے انہیں اس بات پر ملامت کیوں نہیں کرتے کہ وہ سیدنا عثمان کے قاتلوں سے قصاص نہیں لے رہے حالانکہ وہ ان کی صفوں میں موجود ہیں؟ لہٰذا یہاں پر ’’سَبٌّ‘‘ سے مراد گالم گلوچ یا بد کلامی نہیں بلکہ ان کے موقف کی تردید ہے[شرح النووي على مسلم: 15/ 176]۔
پانچویں بات
بعض اہلِ علم نے سیدنا معاویہ کے اس سوال کی توجیہ یہ کی ہے کہ ان کا یہ سوال صرف از راہِ مزاح اور سیدنا سعد بن ابی وقاص کا موقف جاننے کے لیے تھا۔ سیدنا معاویہ عام طور پر اس قسم کے سوال لوگوں کی رائے جاننے کے لیے کیا کرتے تھے[الانتصار للصحب والآل لإبراهيم الرحيلي، ص: 267]۔ اسی طرح کا ایک سوال انہوں نے جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی کیا تھا، کہا کہ آپ تو حضرت علی کی ملت پر ہیں نا؟ اس پر عبد اللہ بن عباس نے جواب دیا: نہ میں علی کی ملت پر ہوں نہ عثمان کی بلکہ میں تو رسول اللہ ﷺ کی ملت پر ہوں[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة لللالكائي: 1/ 105]۔
چھٹی بات
سیدنا معاویہ کے سوال کا ایک مقصد یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ دراصل سیدنا معاویہ کی صف میں کچھ ایسے نوجوان بھی تھے جو سیدنا علی کے مقام و مرتبے سے ناآشنا تھے جس کی بنا پر وہ سیدنا علی کو برا کہا کرتے تھے، جبکہ سیدنا معاویہ سیدنا علی کے فضائل کے معترف تھے۔ لہٰذا انہوں نے چاہا کہ سعد بن ابی وقاص جیسی بڑی شخصیت کی زبان سے سیدنا علی کے فضائل کا اظہار ہو تاکہ وہ نوجوان اپنے اس رویے سے باز آجائیں۔اس کی دلیل یہ کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص نے حضرت علی کے فضائل ذکر کیے تو سیدنا معاویہ خاموش ہو گئے اور کوئی اعتراض نہ کیا، ورنہ اگر وہ ان فضائل سے ناخوش ہوتے تو خاموش نہ رہتے
[المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم للقرطبي: 6/ 278]۔
ساتويں بات
”سَبُّ” کا لفظ جس طرح گالی گلوچ اور بد کلامی کے لیے آتا ہے، اس طرح کسی غلط کام کرنے والے کو روکنے ٹوکنے اور اس کو سرزنش اور توبیخ کرنے کے لیے بھی آتا ہے، جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر جب آپ ﷺ نے راستے میں صحابہ کرام کو فرمایا کہ کل دن چڑھے تم تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے تو پہنچنے کے بعد اس سے کوئی انسان پانی نہ پیے، لیکن دو آدمیوں نے پانی پی لیا تو آپ ﷺ نے ان کی اس حرکت کی تغلیط کی اور ان پر نقد و تبصرہ فرمایا، اس کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ: (فسبَّهما النبی صلی الله عليه وسلم). (صحيح مسلم: 706)
اسی طرح آگے امام نووی نے باب باندھا ہے: (من لعنه النبی صلی الله عليه وسلم أو سبه): جس پر نبی اکرم ﷺ نے لعنت بھیجی ہے یا سَبّ کیا ہے، اس کے تحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے کسی مسئلہ پر آپ سے گفتگو کی، جس سے آپ ناراض ہو گئے اور غصے میں ان کو (لَعَنَهما وسَبَّهُما)، ان پر لعنت بھیجی اور ان پر تنقید و تبصرہ فرمایا، ان کو سرزنش و توبیخ فرمائی۔ (صحيح مسلم: 2600)
آٹھویں بات
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم اور گالی گلوچ کس طرح کروا سکتے ہیں، جبکہ وہ ان کے فضائل و کمالات کے معترف ہیں، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی موت پر روئے، ان کی بیوی نے پوچھا: اس سے جنگ بھی کرتے ہو اور روتے بھی ہو؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تم پر افسوس، تمہیں معلوم نہیں ہے کہ لوگ کس قدر علم، فقہ اور فضل سے محروم ہو گئے ہیں، (تاريخ دمشق: 59 / 142، البدایۃ والنہایۃ: 11/ 429)
اور جب ضرار الصدائی نے حضرت معاویہ کے رُو برو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کیے، تو حضرت معاویہ رو پڑے اور کہنے لگے: (رحم اللهٌ أبا الحسن، كان والله كذلك): اللہ تعالیٰ ابو الحسن (على بن ابى طالب) پر رحمت فرمائے، وہ انہیں خوبیوں اور صفات کے حامل تھے (الاستیعاب لابن عبدالبر: 3/1108)
نویں بات
اگر یہ مان لیا جائے کہ سیدنا معاویہ کا مقصد واقعی میں برے الفاظ پر اکسانا تھا تو اس میں بھی کوئی تعجب والی یا غیر معمولی بات نہیں۔ جب دو فریقوں کے درمیان تلواریں چل چکی ہوں، کئی جانوں کا خون بہہ چکا ہو ایسے میں زبان سے برا کہنا یا اس پر اکسانا ایک معمولی بات سے زیادہ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ بلاشبہ تلواروں کا چلنا زبان سے کی گئی برائی سے زیادہ ہولناک اور افسوس ناک ہے جس میں دونوں فریق شریک تھے۔ لیکن جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ یہ تمام لڑائیاں اجتہاد کی بنا پر تھیں جس میں درست اجتہاد والے کے لیے دو اجر اور غلط اجتہاد والے کے لیے ایک اجر ہے، تو اس کے بعد کسی فریق پر لعن طعن کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ امام ابنِ تیمیہ فرماتے ہیں:
وَأَمَّا مَا ذَكَرَهُ مِنْ لَعْنِ عَلِيٍّ، فَإِنَّ التَّلَاعُنَ وَقَعَ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ كَمَا وَقَعَتِ الْمُحَارَبَةُ … وَالْقِتَالُ بِالْيَدِ أَعْظَمُ مِنَ التَّلَاعُنِ بِاللِّسَانِ، وَهَذَا كُلُّهُ سَوَاءٌ كَانَ ذَنْبًا أَوِ اجْتِهَادًا: مُخْطِئًا أَوْ مُصِيبًا، فَإِنَّ مَغْفِرَةَ اللَّهِ وَرَحْمَتَهُ تَتَنَاوَلُ ذَلِكَ.
جہاں تک سیدنا علی پر لعن طعن کا معاملہ ہے تو لعن طعن تو دونوں فریق کی جانب سے کی گئی جس طرح دونوں فریقوں میں جنگیں ہوئی ہیں۔ ہاتھ کے ساتھ قتال کرنا زبانی لعن طعن سے زیادہ بڑی چیز ہے اور یہ تمام چیزیں خواہ گناہ ہوں یا صحیح اجتہاد ہو یا غلط، اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان سب کو شامل ہے[منهاج السنة النبوية لابن تيمية: 4/ 468]۔
آخری بات
سیدنا معاویہ کی سیرت پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وه انتہائی زیرک اور سمجھدار تھے، بلکہ ان کی سمجھداری اور بردباری کے چرچے عرب میں عام تھے۔ کسی انسان کو گالی دینا یا دلوانا اخلاق اور بردباری کے منافی ہے اور پھر وہ بھی سعد بن ابی وقاص جیسی جلیل القدر شخصیت کے ذریعے؟ جب یہ بات ایک عام عقلمند آدمی سے توقع نہیں کی جا سکتی تو جو تحمل اور بردباری میں ضرب المثل ہو وہ کیوں چاہے گا کہ جس کم سمجھی کا مظاہرہ ایک عام بندہ نہیں کرتا اس کا بوجھ وہ اپنے سر پر لے![أنساب الأشراف 4/ 148، سير أعلام النبلاء للذهبي 2/453، الآداب السلطانية والدول الإسلامية لمحمد بن علي بن طباطبا المعروف بابن الطقطقي (المتوفى: 709هـ) ، ص 109، الانتصار للصحب والآل لإبراهيم الرحيلي ص : 268]