سوال:
کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ تک سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
جواب:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔
روایت کے یہ الفاظ زہری کا ادراج ہیں، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں، نیز زہری نے یہ بات کس سے سنی؟ معلوم نہیں۔
قال رجل للزهري رحمه الله: فلم يبايعه ستة أشهر قال: لا ولا أحد من بني هاشم حتى بايعه على
ایک شخص نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ تک سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا: جب تک علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہ کر لی، بنو ہاشم میں سے بھی کسی نے بیعت نہیں کی۔
(مسند ابي بكر لاحمد المروزي: 38، السنن الكبرى للبيهقي: 6/300)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الذي روي أن عليا لم يبايع أبا بكر ستة أشهر ليس من قول عائشة إنما هو من قول الزهري فأدرجه بعض الرواة فى الحديث فى قصة فاطمة رضي الله عنها، وحفظه معمر بن راشد فرواه مفصلا وجعله من قول الزهري منقطعا من الحديث، وقد روينا فى الحديث الموصول، عن أبى سعيد الخدري ومن تابعه من أهل المغازي أن عليا بايعه فى بيعة العامة التى جرت فى السقيفة، ويحتمل أن عليا بايعه بيعة العامة
یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت چھ ماہ بعد کی، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں، بلکہ زہری رحمہ اللہ کا قول ہے، کسی راوی نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قصہ فاطمہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں داخل کر دیا ہے۔ معمر بن راشد نے اسے یاد رکھا ہے اور مفصل بیان کر کے اسے زہری رحمہ اللہ کا قول قرار دیا ہے، جو کہ حدیث سے جدا ہے۔ ہم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک موصول حدیث بیان کی ہے، ان کے بعد والے اہل مغازی بھی یہی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سقیفہ میں ہی بیعت کر لی تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے سقیفہ کے بعد ہونے والی عام بیعت میں بیعت کر لی ہو۔
(الإعتقاد، ص 180)
معلوم ہوا کہ یہ زہری کا ادراج ہے، صحابی کا قول نہیں۔