مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب عتیق اللہ ثابت ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب عتیق اللہ ثابت ہے؟

جواب:

اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
كان اسم أبى بكر عبد الله بن عثمان، فقال له النبى صلى الله عليه وسلم: أنت عتيق الله من النار، فسمي عتيقا
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام عبد اللہ بن عثمان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے ابو بکر!) آپ کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ تو آپ کا نام عتیق پڑ گیا۔
(صحیح ابن حبان: 6864)
روایت باطل ہے۔
❀ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث باطل
یہ حدیث باطل ہے۔
(عِلَل الحديث: 2668)
ائمہ علم حدیث کی ظاہری اور مخفی علتوں سے واقف تھے، ان کی تحقیق ہی معتبر ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
إن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنت عتيق الله من النار فيومئذ سمي عتيقا
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے ابو بکر!) آپ کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ تو اس دن سے آپ کا نام عتیق پڑ گیا۔
(سنن الترمذي: 3679)
سند سخت ضعیف ہے۔ اسحاق بن یحیی بن طلحہ ضعیف و متروک ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے:
إني لفي بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه فى الفناء وبيني وبينهم الستر إذ أقبل أبو بكر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن ينظر إلى عتيق من النار فلينظر إلى هذا، قالت: وإن اسمه الذى سماه به أهله لعبد الله بن عثمان بن عامر بن عمرو، لكن غلب عليه عتيق
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھی اور صحابہ کرام خیمہ میں تھے، میرے اور صحابہ کے درمیان پردہ تھا، اسی اثنا میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جہنم سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہتا ہے، تو ان (ابو بکر) کی طرف دیکھ لے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا جو نام ان کے گھر والوں نے رکھا تھا، وہ عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو تھا، مگر وہ عتیق نام سے مشہور ہو گئے۔
(طبقات ابن سعد: 3/170)
روایت باطل ہے۔ صالح بن موسیٰ طلحی ضعیف و متروک ہے۔
اس روایت کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال: 5/109)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔