سوال:
کیا سونے کی انگوٹھی کو مہر مقرر کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
جس بھی چیز پر فریقین متفق ہوں، اسے مہر مقرر کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ سونے کی انگوٹھی ہو یا لوہے کی انگوٹھی ۔ لوہے کی انگوٹھی کو مہر بنانا بھی جائز ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے حق مہر کے بارے میں فرمایا:
التمس ولو خاتما من حديد
”تلاش کیجئے ، اگر چہ لوہے کی کوئی انگوٹھی ہی مل جائے ۔“
(صحيح البخاري : 5121 ، صحیح مسلم : 1425)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
فریقین راضی ہوں، تو تھوڑے حق مہر ، خواہ وہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو، پر نکاح کے جواز کی صحیح صریح اور محکم سنت کو ایک غیر ثابت اثر اور فاسد ترین قیاس کی وجہ سے رد کر دیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے عمومی طور پر فرمایا ہے :
﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾
(النساء : 24)
”تمہارے لیے اپنے مالوں کے عوض نکاح کرنا جائز ہے۔“
نیز فریقین کی رضا مندی کی صورت میں تھوڑے یا زیادہ مال کے بدلے خرید و فروخت پر قیاس بھی اسی بات کا متقاضی ہے۔ (احناف نے حق مہر کو قطع ید پر قیاس کیا ہے۔ حالانکہ کہاں نکاح اور کہاں چوری ؟ کہاں شرمگاہ کی حلت اور کہاں چوری میں ہاتھ کاٹنا؟ کئی بار یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ سب سے بہترین قیاس اہل حدیث ہی کرتے ہیں، کیونکہ جتنا کوئی شخص حدیث کے قریب ہو گا، اتنا ہی اس کا قیاس زیادہ صحیح ہو گا اور جتنا کوئی شخص حدیث سے دور ہوگا ، اتنا ہی اس کا قیاس فاسد ہو گا۔“
(إعلام الموقعين عن رب العالمين : 330/2)