سوال:
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے امت کے بگڑنے کے وقت میری سنت کو لازم پکڑا اس کے لیے (100) شہیدوں کا ثواب ہے۔“ (بیہقی) کیا یہ روایت درست ہے؟
جواب:
شہادت کا مقام اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہے۔ شہادت فضیلت کے اعتبار سے زمان و مکان کی محتاج نہیں، یعنی کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کوئی آدمی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دے تو وہ باعثِ فضیلت ہے، لیکن بعض لوگ ضعیف اور موضوع روایات کو بیان کر کے اس کی فضیلت کم کرنا چاہتے ہیں، بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ اعمال سر انجام دے لو تو یہیں شہادت کا ثواب مل جائے گا۔ ان روایات میں سے ایک یہ ہے کہ علماء کے قلم کی سیاہی شہیدوں کے خون سے افضل ہے اور ایک یہ زیر بحث روایت ہے، اس کو ابن عدی نے الکامل (739/2) اور بیہقی نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔ اس کی سند میں حسن بن قتیبہ ہے، جسے دار قطنی نے متروک الحدیث، ابو حاتم نے ضعیف اور ازدی نے واہی الحدیث اور عقیلی نے کثیر الوہم اور ذہبی نے مائل قرار دیا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں عبد الخالق بن المنذر غیر معروف راوی ہے۔ اس طرح طبرانی اوسط اور حلیۃ الأولیاء (200/8) میں ایک روایت کے اندر سو شہیدوں کی بجائے ایک شہید کا ذکر ہے، لیکن اس کی سند میں محمد بن صالح العدری ہے جس کے حالات مفقود ہیں، ملاحظہ ہو سلسلہ الأحادیث الضعیفة والموضوعة (327)۔