سوال :
کیا سلف صالحین سے یہ بات ثابت ہے کہ اہل سنت سے مراد اہل حدیث ہیں؟
جواب :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، انھیں چھوڑنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔
(مسلم، کتاب الإمارة، باب قوله لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق 1920 تا 1037، 1923، ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء في أهل الشام 2192)
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ لوگ اہل حدیث ہیں۔“ (ترمذی 485/4، دم الكلام للهروي 292/3)
اور اہل سنت و اہل حدیث ایک ہی چیز ہیں۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اہل سنت وہ ہیں جنھیں ہم اہل حق کہتے ہیں اور ان کے علاوہ اہل بدعت ہیں۔ اور سنت پر چلنے والے لوگ صحابہ کرام اور تابعین میں سے ان کے سچ کو اختیار کرنے والے، پھر اہل الحدیث ہیں اور پھر جن لوگوں نے یکے بعد دیگرے ان کی پیروی کی جتنی کہ ہمارے دور تک اور شرق و غرب میں جن لوگوں نے ان کا طریقہ اختيار كيا۔ “
(الفصل في الملل والأهواء والنحل 271/2)
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل الحدیث وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہی اہل سنت ہیں۔ “
(تلبیس إبليس ص 21)
امام ابو طاہر السلفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میں اہل حدیثوں میں سے ہوں اور یہ بہترین گروہ ہے۔ “
(فتح الباری 80/1)
امام الفرائینی فرماتے ہیں:
”اصحاب الحدیث أهل السنة والجماعة ہیں۔ “
(التبصیر في الدین 185)
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں الأزهار المنثورة فى بيان أن أهل الحديث هم الفرقة الناجية والطائفة المنصورة از فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن بن عبد اللہ الاثری، مطبوعہ عجمان۔
امام قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب تم کسی آدمی کو دیکھو جو اہل الحدیث سے محبت کرتا ہو تو وہ سنت پر ہے اور جو اہل الحدیث کی مخالفت کرتا ہو وہ بدعتی ہے۔
(اشرف أصحاب الحديث 134، الاعتقاد للسابوني 121)