مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا سفر کے علاوہ بھی گلے ملنا (معانقہ) جائز ہے؟ اسلامی رہنمائی

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 517
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیا سفر سے لوٹنے کے علاوہ دوسرے مواقع پر معانقہ (گلے ملنا) کیا جا سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
معانقہ (گلے ملنا) محبت کا اظہار ہے جو ایک مسلمان اپنے بھائی کے لیے کرتا ہے۔
◈ یہ ملاقات کے وقت خوشی ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
◈ یہ عمل جائز، مستحب اور باعثِ ثواب ہے بشرطیکہ نیت اپنے بھائی کی عزت و تکریم اور محبت ہو۔

نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے بتایا کہ وہ کسی سے محبت کرتا ہے:

((هل أخبرته بذالك’فإن لم تكن قدأخبرته به فاذهب وأخبره))
"کیا تُو نے اسے بتایا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں؟ اگر تُو نے ابھی تک نہیں بتایا تو جا اور اسے بتا دے۔”

[صحيح] – [رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمد]

معانقہ اور شریعت کا حکم

◈ معانقہ محبت کی خبر دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔
◈ صحیح حدیث میں ہے:

((ذرونى ماتركتكم’مانهيتكم عنه فاجتنبوه وماأمرتكم به فأتومنه مااستطعتم’أوكماقال صلى الله عليه وسلم)) صحيح مسلم، سنن النسائى، كتاب الحج
‘‘مجھے چھوڑ دو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، جس سے روکوں اس سے رک جاؤ، اور جس چیز کا حکم دوں اپنی طاقت کے مطابق اسے بجا لاؤ۔’’

◈ شریعت نے معانقہ سے منع نہیں کیا، نہ ہی کوئی سختی کی ہے، اس لیے یہ اباحت اصلیہ کے تحت جائز ہے۔

حدیثِ ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ

امام دارقطنی، ابو نعیم (الحلیہ)، امام بیہقی (سنن الکبریٰ)، اور طبرانی (المعجم الکبیر) نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((إن الله تعالى فرض فرائض فلاتضيعوها وحدحدودا فلاتعتدوها حرم أشياء فلاتنتهكوها وسكت عن أشياء رحمة لكم غير نسيان فلاتبحثوا عنها))
‘‘بے شک اللہ تعالی نے فرائض مقرر فرمائے ہیں، انہیں ضائع مت کرو۔ جو حدود رکھی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو۔ جو چیزیں حرام کی ہیں ان کو نہ توڑو۔ اور جن چیزوں کے بارے میں حکم بیان نہیں کیا، ان پر سکوت اختیار کیا گیا ہے، تو یہ اللہ کی رحمت ہے، نہ کہ بھول۔ ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔’’

◈ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سکوت کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز مباح بلکہ مندوب ہے، خاص طور پر اگر نیت اخلاص پر مبنی ہو۔

معانقہ کے مواقع

مسافر سے واپسی پر معانقہ کے بہت سے آثار موجود ہیں۔
مقیم کے بارے میں اس طرح کے آثار کم ہیں، لیکن اصل علت یعنی محبت و خوشی دونوں میں یکساں ہے۔

طبرانی (المعجم الاوسط)، تحفۃ الاحوذی (شرح ترمذی) میں حدیث ہے:

((أن النبى صلى الله عليه وسلم أرسل إلى أبى ذر وكان خارجا من البيت فلما جاء أخبر برسالة النبى صلى الله عليه وسلم’قال ابوذرفلما جئت التزمنى النبى صلى الله عليه وسلم))
"نبی ﷺ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا۔ وہ گھر سے باہر تھے۔ جب آئے تو انہیں بتایا گیا۔ پھر ابوذر کہتے ہیں: جب میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔”

◈ اگرچہ ایک راوی کے مبہم ہونے کی وجہ سے روایت میں کچھ ضعف ہے، لیکن یہ ضعفِ یسیر ہے جو شواہد سے دور ہو جاتا ہے۔

روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ

ترمذی، ابن ماجہ میں روایت ہے:

◈ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب ہم اپنے بھائی یا دوست سے ملیں تو کیا اس کے لیے جھک سکتے ہیں؟ فرمایا: "نہیں”۔
◈ پوچھا: کیا اس سے چمٹ کر بوسہ لے سکتے ہیں؟ فرمایا: "نہیں”۔
◈ پوچھا: کیا مصافحہ کر سکتے ہیں؟ فرمایا: "ہاں”۔

◈ یہ روایت حنظلہ بن عبداللہ السدوسی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
◈ اگر بالفرض اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو اسے مقیم کے ساتھ معانقہ نہ کرنے پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ مسافر سے معانقہ صحیح سند سے ثابت ہے۔
◈ امام ترمذی نے اگرچہ اسے حسن کہا ہے لیکن ان کا تساہل مشہور ہے۔

جھکنے کے بارے میں وضاحت

◈ اس حدیث کے ضعیف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ جھکنا جائز ہے۔
◈ دیگر دلائل سے واضح ہے کہ غیر اللہ کے لیے جھکنا حرام ہے، کیونکہ یہ رکوع اور سجود کی مشابہت رکھتا ہے، اور یہ صرف اللہ کے لیے جائز ہے۔

حدیثِ انس بن مالک رضی اللہ عنہ (مسند احمد، بیہقی)

ابوالقاسم عفی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صحیح سند کے ساتھ روایت ہے:

((أن رجلا من أهل البادية كان إسمه زاهربن حراء قال: وكان النبى صلى الله عليه وسلم يحبه وكان ذميما فأته النبى صلى الله عليه وسلم يوما وهو يبيع متاعه فاحتضنه من خلفه وهو لا ينظر……))

‘‘ایک دیہاتی شخص زاہر بن حراء تھا۔ نبی ﷺ اس سے محبت کرتے تھے۔ وہ غریب تھا۔ ایک دن جب وہ بازار میں سامان بیچ رہا تھا تو نبی ﷺ نے پیچھے سے جا کر اسے گلے لگا لیا۔ وہ نہ پہچان سکا اور پوچھنے لگا: کون ہے؟ پھر جب دیکھا تو نبی ﷺ تھے۔ اس نے اپنی پیٹھ آپ کے سینے سے ملا دی۔ آپ ﷺ فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ زاہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں تو اتنا معمولی ہوں کہ کوئی قیمت بھی نہ لگائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن تو اللہ کے ہاں بہت قیمتی ہے۔’’

◈ اس سے ثابت ہوا کہ نبی ﷺ نے مقیم صحابی کو بھی گلے لگایا۔

صحیح بخاری کی روایت

صحیح بخاری میں ہے کہ نبی ﷺ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سینے سے لگایا اور دعا کی:

((اللهم علمه الكتاب))
"اے اللہ! اسے قرآن کا علم عطا فرما۔”

خلاصہ

◈ معانقہ کرنا سفر سے واپسی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
◈ یہ محبت اور عزت کا اظہار ہے، جو شریعت میں جائز، مستحب اور باعثِ اجر ہے۔
◈ البتہ جھکنا یا غیر اللہ کے لیے رکوع و سجود کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔