کیا ساری امت مسلمہ ایک ہی دن عید منائے گی؟
اس مسئلہ میں کافی اختلاف ہے کہ کیا تمام امت مسلمہ عیدین کے تہوار ایک ساتھ منائے یا ہر علاقے کے لوگ جن کی چاند کی منازل اور مطالع مختلف ہیں وہ چاند کی گنتی کے حساب سے اپنے تہوار منائیں گے؟ اس مسئلے میں راجح بات یہ ہے کہ ہر علاقے کے لوگ چاند کی گنتی کے حساب سے عیدین کا انعقاد کریں گے۔
اس مسئلہ کی حقانیت اور قرین صواب ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں۔
دلیل نمبر 1: ۔
یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلامی مہینوں کا آغاز مہینے کے انتیس دن ہونے پر چاند کے طلوع ہونے سے یا مہینے کے تیس دن مکمل ہونے پر ہوتا ہے اور ہر علاقے کی چاند کی منزل اور مطلع مختلف ہے۔ لہذا ہر علاقے کے لوگ اپنے مہینے کی گنتی کے لحاظ سے عیدین اور رمضان المبارک کا تعین کریں گے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا:
لا تصوموا حتى تروه، ولا تفطروا حتى تروه، فإن أغمي عليكم فاقدروا له
”تم روزہ نہ رکھو تا وقتیکہ رمضان المبارک کا چاند نہ دیکھ لو اور جب تک عید الفطر کا چاند نہ دیکھو روزہ ترک نہ کرو، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو تو مہینے کی گنتی کا اندازہ لگاؤ۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبى صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأيتم الهلال فصوموا: 1906 – صحيح مسلم، کتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال: 1080 – سنن نسائی: 2123، مسند أحمد: 63/2- صحيح ابن حبان: 3445
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صوموا لرؤيته: وأفطروا لرؤيته، فإن غمى عليكم فعدوا ثلاثين
”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، چاند دیکھ کر ہی روزہ ترک کرو اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو (مہینے کے) تیس دن شمار کرو۔“
مسند أحمد: 430/2 – صحیح بخاری: 1909۔ مسلم: 1081۔ سنن نسائی: 2120
فقہ الحدیث: ۔
یہ احادیث واضح دلیل ہیں کہ رمضان المبارک اور عید الفطر کی تعیین کی دو صورتیں ہیں:
➊ شعبان یا رمضان کے انتیس دن مکمل ہونے کے بعد چاند نظر آجائے۔
➋ اگر انتیس تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو مہینے کے تیس دن مکمل کئے جائیں اور یہ بات طے ہے کہ ہر علاقے کا مطلع مختلف ہے لہذا یہ حکم ہر علاقے کے ساتھ خاص ہے جن کے چاند کا مطلع ایک ہے، اس کا ثبوت آئندہ روایت ہے۔
➌ کریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال: فقدمت الشام، فقضيت حاجتها، واستهل على رمضان وأنا بالشام، فرأيت الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة فى آخر الشهر، فسألني عبد الله بن عباس رضى الله عنهما، ثم ذكر الهلال فقال: أنت رأيته فقلت: نعم، ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية فقال: لكنا رأينا ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين، اونراه فقلت: اولا تكتفي برؤية معاوية و صيامه؟ فقال: لا ، هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے (کسی کام کی غرض سے) انھیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، انھوں نے بیان کیا کہ میں شام آیا، اس (ام فضل رضی اللہ عنہا) کا کام کیا اور میں شام ہی میں تھا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا اور میں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر پر مدینہ واپس آیا تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے حال احوال پوچھا بعد ازاں ہلال رمضان کا ذکر چھڑا تو انھوں نے کہا تم نے رمضان المبارک کا چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی، ہم نے رمضان المبارک کا چاند جمعہ کی رات دیکھا تھا، انھوں نے پوچھا: کیا تو نے چاند خود دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے اور میرے سمیت دیگر لوگوں نے بھی دیکھا اور (اس رویت پر) معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت سبھی لوگوں نے روزہ رکھا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے تو ہلال رمضان ہفتہ کی رات دیکھا تھا، چنانچہ ہم مسلسل روزے رکھیں گے۔ تا وقتیکہ ہم تیس دن پورے کر لیں یا چاند دیکھ لیں۔
میں نے عرض کیا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا تمہیں کافی نہیں؟ یہ سن کر انہوں نے کہا: نہیں ! بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے (کہ ہم چاند دیکھ کر یا مہینے کی گنتی پوری کر کے روزہ رکھیں اور اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے عید الفطر کا اہتمام کریں)۔
مسلم، کتاب الصيام، باب بيان أن لكل بلد رؤيتهم: 1087 ـ أبو داؤد، كتاب الصيام، باب إذا رئ الهلال في بلد: 2332- جامع ترمذی کتاب الصوم، باب ما جاء لكل بلد رؤيتهم: 693 – سنن نسائی: 2113 ۔ مسند أحمد: 306/1 ۔ صحیح ابن خزیمہ 1916
فقہ الحدیث: ۔
یہ حدیث واضح نص ہے کہ ہر علاقے کے لوگ جن کے چاند کا مطلع ایک ہے وہ چاند دیکھ کر یا رمضان المبارک کی تیس دن گنتی پوری کرنے کے بعد عید الفطر منائیں گے اور کسی ایک علاقے میں چاند نظر آنے سے تمام روئے زمین کے مسلمان اس علاقے کے لوگوں کی موافقت کے پابند نہیں ہیں۔